چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ 10 سالہ بچی کی موت کیسے ہوئی؟
پنجاب کے ضلع چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد میں آ کر 10 سالہ بچی کی موت ہو گئی جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے جبکہ واقعے میں ملوث مبینہ ڈاکوؤں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔
پولیس ریکارڈ، ایف آئی آر اور چکوال پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب چکوال شہر کے قریب پیش آیا جبکہ مقتولہ بچی کے والد عدیل کی مدعیت میں اس واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
چکوال سٹی پولیس تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 511/26 کے مطابق مقدمہ مقتولہ بچی کے والد عدیل احمد ولد ظفر حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق عدیل احمد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب راستے میں ایک سفید رنگ کی گاڑی ان کے قریب آ کر رکی۔ مدعی کے مطابق گاڑی سے مسلح افراد نکلے جنہوں نے اسلحہ کے زور پر ان کی گاڑی رکوا لی۔
ایف آئی آر کے مطابق مسلح افراد نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر خواتین سے طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔ مدعی نے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے گاڑی کی تلاشی بھی لی اور واردات کے دوران اہل خانہ کو دھمکیاں دیتے رہے۔
مدعی کے مطابق ڈکیتی کی واردات کے دوران یا اس کے فوراً بعد علاقے میں فائرنگ شروع ہو گئی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب سی سی ڈی کی گاڑی جبکہ دوسری جانب مذکورہ سفید گاڑی موجود تھی اور فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔
مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فائرنگ کے دوران ان کی 10 سالہ بیٹی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی، تاہم مقدمے کے متن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بچی کو لگنے والی جان لیوا گولی کس جانب سے چلائی گئی تھی۔
پولیس نے مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 394 اور 440 کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایک گاڑی اور اس میں سوار تین افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں واقعے میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کیا بتاتی ہے؟
ایف آئی آر میں شامل ابتدائی میڈیکل رائے کے مطابق بچی کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے جبکہ فرانزک اور بیلسٹک شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ جان لیوا گولی کس سمت سے چلائی گئی تھی۔
تاحال پولیس کی جانب سے یہ باضابطہ طور پر نہیں بتایا گیا کہ بچی کو لگنے والی گولی مبینہ ڈاکوؤں کی جانب سے چلائی گئی یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کسی اہلکار کی فائرنگ سے لگی۔
چکوال پولیس کا مؤقف
چکوال پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چکوال نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈکیتوں اور سی سی ڈی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی۔‘
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث مبینہ ڈاکوؤں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چکوال پولیس اور سی سی ڈی کی مشترکہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
ڈی پی او چکوال نے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن چکوال کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق جے آئی ٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی، جن میں فائرنگ کا آغاز کس جانب سے ہوا، پولیس اور سی سی ڈی اہلکاروں کی کارروائی قواعد و ضوابط کے مطابق تھی یا نہیں اور بچی کی موت کا براہ راست سبب بننے والی گولی کہاں سے چلائی گئی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر دوران تفتیش سی سی ڈی کے کسی اہلکار کی غفلت یا قصور ثابت ہوا تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
تاہم تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ بچی کی ہلاکت کی قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔