آبنائے ہرمز کے عمانی حصے سے جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے: ایران
جمعرات 16 اپریل 2026 10:59
آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس کے تحت جہازوں کو آبنائے ہرمز کے عمانی حصے سے آزادانہ اور بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جائے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ممکنہ طور پر خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور عالمی توانائی کی فراہمی کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک سیکڑوں ٹینکر اور دیگر جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 20 ہزار ملاح مشکلات کا شکار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران عمانی پانیوں میں جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران ان پانیوں میں موجود بارودی سرنگیں صاف کرے گا یا اسرائیل سے منسلک جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت دے گا۔ تجویز کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن ایران کے مطالبات ماننے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان 34 کلومیٹر چوڑی پٹی ہے، خلیج کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی و دیگر ضروری سامان کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ ایران کی یہ تجویز حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے سخت اقدامات جیسے جہازوں سے فیس وصول کرنے اور آبنائے پر مکمل خودمختاری کے دعوے سے ایک نرم رویہ ظاہر کرتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے لندن میں ہونے والے اجلاس میں ایران کی فیس وصولی کی تجویز کو خطرناک قرار دیا تھا۔ اگر ایران کی نئی تجویز پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ دہائیوں سے قائم جہاز رانی کے نظام کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہوگا۔
