فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں گیس لیکیج سے دھماکہ، 20 ہلاکتیں
فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں گیس لیکیج سے دھماکہ، 20 ہلاکتیں
جمعہ 21 نومبر 2025 8:24
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک فیکٹری میں گیس لیکیج کے باعث ہولناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک جبکہ ساتھ زخمی ہو گئے ہیں۔
جمعے کی صبح فیصل آباد کے ملک پور شہاب ٹاؤن میں کبڈی سٹیڈیم گراؤنڈ کے قریب ایک فیکٹری میں دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی وجہ سے فیکٹری کے آس پاس کے کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
جمعے کو اس واقعے کی ایف آئی ار تھانہ منصور آباد میں درج کی گئی ہے۔
پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملک پور کرسٹل کیمیکل فیکٹری کے مالک ، مینیجر اور دیگر ملازم یہاں خطرناک کیمیکل اور آتش گیر مادے کا استعمال کرتے تھے جس کی وجہ میں ملحقہ آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔
’مقامی افراد نے اس سے قبل کئی مرتبہ شکایت بھی کہ ان خطرناک کمیکلز کی وجہ سے ان کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں، لیکن انتطامیہ نے اس خطرناک مواد کا استعمال جاری رکھا۔‘
پولیس اقدام قتل، دھماکہ خیز مواد سے متعلق ایکٹ سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج دیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ بوائلر پھٹنے کے باعث ہوا تاہم ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فیکٹری میں بوائلر موجود نہیں تھا، حادثہ گیس لیکیج کے باعث پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ حادثہ گیس لیکج کی وجہ سے سٹیمر بلاسٹ سے ہوا ہے۔ اس جگہ چار اکٹھی فیکٹریاں تھیں اور یہ دھماکہ کیمیکل صمد بونڈ بنانے والی فیکٹری میں ہوا۔ دیگر تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام ہوتا ہے جو کہ بند تھیں۔‘
ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم نے بتایا کہ اس حادثے میں فیکٹری کے اطراف نو گھر بھی متاثر ہوئے ہیں (فوٹو: ریسکیو 1122)
ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم نے بتایا کہ اس حادثے میں فیکٹری کے اطراف نو گھر بھی متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رُکنی کمیٹی بنا رہے ہیں۔
ریسکیو پنجاب کے ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122 کو صبح پانچ بج کر 28 منٹ پہ دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد فوری طور پر ٹیمیں جائے حادثہ پر روانہ کی گئیں۔
منہدم عمارت سے کئی افراد کو زندہ ریسکیو کیا گیا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم شدید چوٹوں کی وجہ سے کچھ لوگ بعد میں دم توڑ گئے. ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق اب تک کی اطلاعات کے مطابق 20 ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سات افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 22 ایمرجنسی وہیکل اور 130 سے زائد ریسکیور آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب دھماکے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسران کو امدادی کارروائیوں میں مکمل معاونت کی ہدایت جاری کر دی۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے ریسکیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون یقینی بنائیں جبکہ ٹریفک پولیس ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں کی متاثرہ مقام تک رسائی میں رکاوٹ نہ آنے دے۔
ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر پولیس کی خصوصی ٹیمیں بھی ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں ریسکیو اہلکاروں کی مدد کر رہی ہیں۔