Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں رمضان کے معمولات: ہر علاقے کی اپنی روایت اور ثقافت

بچے اپنے محلوں میں گھر گھر جا کر مٹھائیاں اور دیگر تحائف جمع کرتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
رمضان المبارک کے دوران سعودی عرب میں طرح طرح کے رواج دیکھنے کو ملتے ہیں اور ہر علاقہ طویل عرصے سے رائج اپنی اپنی مخصوص روایات پر ناز کرتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ مملکت کے کسے حصے کے ساتھ رمضان کی کونسی روایات مخصوص ہیں۔
نجد
نجد کے کئی حصوں میں پائی جانے والی ایک روایت یہ کہ رمضان میں لوگ اپنے اقرباء، ہمسایوں اور ضرورت مندوں کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں۔
اکثر اوقات گلی محلے کے گروپ اس طرح کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ عموماً افطار یا تراویح کے بعد لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، اپنی فیملیوں، ہمسایوں حتٰی کہ راہ گیروں تک کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ کھانا تیار کرکے آس پاس کے گھروں  میں یا ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ اس طرح کھانا کھلانے کا تانا بانا خیرات سے جا ملتا ہے لیکن پھر بھی یہ روایت اقرباء کو یاد رکھنے اور کمیونٹی کے ساتھ وابستہ ہے لیکن اس سے اپنے پیاروں کو عزت دینے اور سماجی رشتے مضبوط بنانے کی ایک راہ بھی نکلتی ہے۔
کئی جگہوں پر جن میں القصیم بھی شامل ہے، ایسی تقریب کا اہتمام رمضان کے مہینے میں کئی بار کیا جاتا ہے۔ یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے اور نجد کے سماجی ڈھانچے کا حصہ ہے جس میں رمضان کے مہینے میں خاندان کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

حجاز
مدینے کی تنگ گلیوں میں گزشتہ سو برس سے رمضان کی خوشی کے اظہار کے لیے ’سیدی شاہین‘ کے بول گونج رہے ہیں۔ یہ الفاظ رمضان کی آمد کا اعلان ہیں اور حجاز میں لوگوں کی سب سے پسندیدہ لوک روایتوں کا حصہ ہیں۔
جیسے ہی شعبان (ماہِ رمضان سے ایک ماہ پہلے آنے والا اسلامی مہینہ) کے پہلے 15 دن گزرتے ہیں تو بچے رمضان کی آمد کا اعلان کرنے کے لیے مدینے کی گلیوں اور محلوں میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ روایت مدینے میں خاص طور پر بہت مضبوط ہے اگرچہ پورے حجاز میں لوگ اس سے واقف ہیں۔
بچے کرتے یہ ہیں کہ چھوٹا سا کنٹینر جسے ’قف‘ کہتے ہیں ہاتھوں میں تھامے گلیوں میں گاتے ہوئے گھومتے رہتے ہیں۔ جہاں جہاں سے بچے گزرتے ہیں وہاں لوگ گھروں سے باہر نکل کر ٹافیوں، گولیوں جیسی میٹھی چیزیں، یا میوہ جات اور کبھی کبھی سِکے ’قف‘ میں رکھ دیتے ہیں۔ بچے ہم آواز ہو کر ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک روایتی گیت گاتے جاتے ہیں اور ان گیتوں کو سُن کر لوگ گھروں کے دروازے کھول دیتے ہی اور مسکراہٹوں اور ہنسی کے ساتھ بچوں کے ساتھ شفقت کرتے ہیں۔
لوگ اس روایت سے پہلے ہی سے آگاہ ہوتے ہیں لہذا 15 شعبان کے قریب گھروں میں بچوں کے لیے میوے اور میٹھی چیزیں جن میں مشبک بھی ہوتا ہے، سنبھال کر رکھ لیتے ہیں تاکہ وہ بچوں کی خوشیوں میں شریک ہوں اور جب بچے ان کے دروازے پر آئیں تو انھیں دینے کے لیے چیزیں پہلے سے موجود ہوں۔

حدود الشرقیہ
خلیج کے ممالک میں رمضان کے وسط میں منائی جانے والی ایک انتہائی مقبول روایت قرقیعان ہے۔ یہ روایت خاص طور پر کویت، بحرین، عراق اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں زیادہ نظر آتی ہے۔ تاہم قرقیعان، مملکت کے دیگر حصوں میں اس طرح مروِّج نہیں۔
روایت یوں ہے کہ بچے سفید ثوب اور بچیاں جلابیہ پہن کر اپنے محلے کے گھروں کے دروازوں پر جاتے ہیں۔ ان کے پاس ہاتھ سے بُنی ہوئی ٹوکریاں ہوتی ہیں جن میں بڑے بزرگ اور خواتین انھیں میٹھی یا دیگر پسندیدہ چیزیں دیتے ہیں۔ اس طرح یہ کمیونیٹی کے ساتھ رابطے کا ایک موقع بھی بن جاتا ہے اور خوشیاں بانٹنے کا ایک تہوار بھی۔
جازان
جازان میں رمضان کا استقبال خشبودار لکڑی کے دھوئیں اور تازہ روٹی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ دیہات اور ساحلی علاقوں میں فیملیاں آج بھی روایتی تنور میں بُھٹے اور باجرے سے روٹیاں تیار کرتے ہیں جنھیں افطار کے وقت کھایا جاتا ہے۔رمضان میں ’مفلت‘ کو بھی بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔اسے سحری کے وقت آٹے اور دودھ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس روٹی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ آسانی سے بن جاتی ہے اور اسے کھانے کے بعد روزے کے طویل دورانیے میں بھوک کم لگتی ہے۔
جازان میں رمضان سے مخصوص ایک اور بات یہ ہے کہ لوگ آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔ غروبِ آفتاب سے قبل ہمسائے ایک دوسرے کو کھانا بھیجتے ہیں تاکہ ہر گھر میں مقامی ذائقے کی کوئی نہ کوئی چیز موجود ہو۔ شام کو لوگ کھلی جگہوں پر اکٹھے ہوتے ہیں جہاں گپ شپ ہوتی ہے۔ بزرگ، نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ ان سے پہلے کی نسل رمضان  کس طرح منایا کرتی تھی۔ جازان میں رمضان میں توجہ، اسراف پر کم اور کھانے پینے کی وراثت کو محفوظ کرنے پر زیادہ ہوتی ہے۔

حائل
اس سال حائل میں رمضان ایسے وقت آیا ہے جب موسم نسبتاً سرد ہے۔ ورنہ رمضان میں یہ نظارہ عام ہوتا ہے کہ درجنوں لوگوں دوپہر کے بعد پانی کے کناروں یا قریب کی وادیوں میں چلے جاتے ہیں۔وہاں بیٹھنے کا انتظام کرتے ہیں اور افطار کی تیاری بھی وہیں کی جاتی ہے۔
چائے اور کافی کو آگ پر بنایا جاتا ہے۔ لوگ گھروں سے ڈشیں بنا کر لاتے ہیں جن میں مرغی، بھیڑ، سبزی وغیرہ کا سوپ بھی ہوتا ہے۔
حائل کی روایتی ڈش کبیبہ بھی رمضان میں بہت مقبول ہوتی ہے۔ کبیبہ کی ڈش، انگور کے پتوں اور چاولوں میں مسالے ڈال کر تیار کی جاتی ہے جس میں زیرہ، کالی مرچ اور خشک کیا ہُوا لیموں شامل ہے۔ بعض اوقات لوگ پیسے ملا کر چھوٹی بھیڑ خرید لیتے ہیں جسے پکا کر کھایا جاتا ہے۔ کلیجی کو بڑے اہتمام سے مسالے لگا کر پیاز میں پکایا جاتا ہے۔ باقی گوشت کو چاولوں کے ساتھ سحر کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔

قطیف
15 شعبان کی رات اور پھر رمضان کے درمیان میں، روایتی لباس پہن کر بچے قطیف کی گلیوں میں دوڑتے ہیں اور ’نصفا‘ کی خوشی مناتے ہیں جو چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ یہ روایت عرب دنیا کے کئی شہروں میں آج بھی منائی جاتی ہے۔ تاہم سعودی عرب میں صرف قطیف ہی وہ جگہ ہے جہاں ایسا ہوتا ہے۔
یہ موقع، محض ایک رسم نہیں بلکہ ماضی اور حال کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ مورخ ھجلس بتاتے ہیں کہ بچوں کا تحفے لینے کے لیے گھر گھر جانا شہری علاقوں میں زیادہ مقبول ہے جہاں کمیونیٹی کا باہمی تعلق مضبوط ہوتا ہے اور وہ اس رواج کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ھجلس کے مطابق ’اس موقع پر صرف مٹھائیاں ہی تقسیم نہیں کی جاتیں بلکہ خوشیوں کو بانٹا جاتا ہے۔ امیر ہو یا غریب دونوں ہی دینے والے ہوتے ہیں اور بچوں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کون ہیں اور کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

شیئر: