رمضان اور عید کے دوران توپ کیوں چلائی جاتی ہے؟
سحر و افطار اور روزے کا آغاز کے وقت کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
ہوا میں گولے چھوڑتی توپوں کی آوازیں جنھیں شہروں میں دور دور تک سنا جا سکتا ہے، ان کا تعلق اصل میں رمضان المبارک اور عید کی چھٹیوں کے آغاز کے روایتی اعلان سے ہوتا ہے۔
لیکن توپوں سے اس طرح کے اعلان محض رمضان کی آمد یا عیدین کے لیے وقف نہیں بلکہ کئی جگہوں پر توپوں سے گولے چھوڑ کر سحر و افطار اور روزے کا آغاز کے وقت کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رمضان کے آغاز کا راویتی اعلان توپوں سے سات مرتبہ فائر کرنے سے ہوتا ہے۔
تاہم روزانہ کی بنیاد پر افطار کے وقت ایک گولہ فائر کیا جاتا ہے جبکہ سحری کے لیے لوگوں کو جگانے کے لیے بھی ایک گولہ چھوڑا جاتا ہے۔ جبکہ ایک تیسرا گولہ روزے کے شروع ہو جانے کے وقت کا اعلان کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
جب عید کا اعلان ہوتا ہے اس وقت بھی توپوں سے گولے فائر کیے جاتے ہیں۔

توپوں سے گولے ہوا میں چلانے کی یہ روایت لوگوں کی یادداشت میں قدیم زمانے سے بسی ہوئی ہے۔ اس کا تعلق آج کل کے دور میں رمضان، سحر و افطار یا عیدین کے اعلان کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں سے بہت پہلے کا ہے۔
مملکت کے کئی علاقوں میں یہ روایت اب تک جاری و ساری ہے جن میں مکہ، مدینہ، جدہ، تبوک اور حدود الشمالیہ شامل ہیں۔
رمضان کے پورے مہینے میں توپوں میں گولے بھر دیے جاتے ہیں اور توپوں کو نسبتاً بلند مقام پر نصب کر دیا جاتا ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ توپ کے گولے کی آواز بلند ہو، دور تک پہنچے اور وسیع علاقے میں سنائی دے، سکیورٹی کے ماہر اہلکار تنصیب کے وقت اس مقام پر موجود ہوتے ہیں جہاں توپ کو نصب کیا جا رہا ہوتا ہے اور یہ کام ان ماہرین کی نگرانی ہی میں کیا جاتا ہے۔
سکیورٹی کے ماہرین گولے داغنے کے بعد بھی توپ کا معائنہ کرتے ہیں اور فائرنگ کے وقت بھی وہاں موجود ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو سحر و افطار کے اوقات اور روزے کے شروع ہونے کے وقت کے علاوہ عیدین کے صحیح نظام الاوقات کا بھی علم ہو جائے اور یہ کام سے اور بالخصوص حفاظت کے ساتھ مکمل ہو۔
