Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم ریجن میں رمضان کی قدیم ثقافت اور روایات آج بھی برقرار

قسیم میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل تیاریوں کا آغاز کردیا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی معاشرے میں ہمیشہ سے ہی رمضان کی روایات سماجی ورثے کا حصہ رہی ہیں۔ ماہ مبارک میں دینی اور سماجی و ثقافتی اقدار یکجا ہو جاتی ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مملکت میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل علاقائی رواج کے مطابق استقبال کی تیاریوں کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔
فلاحی منصوبے اور سماجی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں، ضرورت مندوں کی امداد کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کی جاتی ہیں۔
علاقائی رسوم و ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے سماجی پروگرام میں رضاکارانہ بنیادوں پر نوجوانوں کی شرکت یقینی ہوتی ہے۔
مملکت کے دیگر علاقوں کی طرح قصیم ریجن بھی ترقیاتی ادوار سے گزرا تاہم یہاں آج بھی رمضان المبارک کی قدیم ثقافت اور روایات ویسی ہی قائم ہیں جیسا ماضی میں تھیں۔
کھجور، عربی قہوہ، لسی کے ساتھ ریجن کے بعض علاقائی مشہور پکوان جن میں الجریش، المرقوق، القرصان، سمبوسہ، شوربہ وغیرہ شامل ہیں افطار اور سحر کی زینت بنتے ہیں۔
افطاری کی تقسیم کی روایت پر اہل قصیم آج بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسا ماضی میں کیا جاتا تھا۔ افطاری سے چند لمحات قبل افطاری دسترخوانوں کے تبادلے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

پڑوسیوں کے گھروں میں ہی نہیں بلکہ ہر علاقے کے لوگ اپنے گھروں کے پاس مساجد میں بھی افطاری کا بندوبست کرتے ہیں۔ خاص طور پر مسافروں کے لیے افطاری اہتمام  کرانے کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
قصیم میں رہنے والے ایک شہری، صالح الدواس نے ایس پی اے کو بتایا کہ ’ماضی میں رمضان المبارک ہر ایک کے نزدیک بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ رمضان کی آمد سے کچھ دن قبل اس ماہ مبارک کے استقبال کی تیاریوں کا آغاز کر دیا جاتا تھا۔ چاند دکھائی دیتے ہی عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کو مبارکباد دی جاتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’رمضان کے چاند کا اعلان علاقے کی مساجد سے کیا جاتا تھا۔ اگر رویت ہلال میں تاخیر ہوتی تو اس کی خبر ریڈیو کے ذریعے سنائی جاتی۔‘
صالح الدواس کا مزید کہنا تھا کہ ’ماضی میں رمضان المبارک کے دوران علاقے کی مساجد کا کردار بڑھ جاتا۔ تراویح کی نماز کے لیے علاقے کے سب لوگ حاضر ہوتے اور مساجد نمازیوں سے بھر جاتی، چھوٹے اور بڑے رمضان کے دوران تلاوت اور نماز کی سختی سے پابندی کیا کرتے۔‘

سماجی حوالے سے بھی لوگ رمضان المبارک کے دوران ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے۔ ان دنوں مساجد میں افطاری کا خاص اہتمام کیا جاتا خاص طور پر مسافروں کی میزبانی کرنے کے لیے اہل علاقہ ایک سے دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں رہتے۔
انہوں نے کہا کہ’وقت کی تبدیلی کے باوجود رمضان کی بیشتر عادات و رواج پر آج بھی علاقے کے لوگ اسی طرح قائم ہیں۔‘

 

شیئر: