ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو گیا ہے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو گیا ہے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اتوار 31 مئی 2026 5:52
صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کسی بھی طور جوہری ہتھیار حاصل نہ کر پائے: (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران سے یہ ضمانت حاصل کر لی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا جبکہ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ انہوں تہران کو سخت شرائط کے ساتھ تجاویز بھجوائی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شرائط میں تبدیلی سے جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے معاہدے کو مزید طول سکتی ہے، جس کو متضاد بیان بازی اور مسلح تصادم کے باوجود حاصل کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور ایکسیوس نے سنیچر کو رپورٹ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا ایک نیا فریم ورک ایران کو بھجوایا ہے جس میں ’مزید سخت شرائط‘ شامل کی گئی ہیں تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن نکات میں تبدیلی کی گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ان کی ترجیح یہی ہے کہ ایران کو کسی قسم کے جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے۔
انہوں نے سنیچر کو فاکس نیوز پر اپنی بہو لارا ٹرمپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے جو صرف ایک ضمانت چاہیے وہ یہی ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے، یہ کافی دلچسپ بات تھی۔‘
تاہم اس سے قبل بھی تہران صدر ٹرمپ کے دعوؤں پر شکوک کا اظہار کر چکا ہے اور فریقین اپنی ترجیحات کے لحاظ سے کافی فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کی تاہم معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
اس ملاقات سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’حتمی فیصلے‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور آبنائے ہرمز کو کھلوانا ترجیحات ہیں۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے سیشن کے بعد ایک انتظامی اہلکار کا کہنا تھا کہ سیشن بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ صرف اس معاہدے پر دستخط کریں گے جو ان کی ’ریڈلائنز کو پورا‘ کرے اور ایران کے جوہری عزائم کو روکے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام جیسے معاملات پر بات سے قبل وہ اپنے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کا اجرا چاہتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
یہ وہی ذخیر ہے جس سے جوہری ہتھیار بنائے جانے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں۔
تہران کی جانب سے اس امر پر بھی اصرار کیا گیا ہے کہ لبنان کو بھی جنگ کے خاتمے کے معاہدے میں شامل کیا جائے، جس پر اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
فاکس کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران میں نئی فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی جلدی نہیں، آہستگی سے مگر یقینی طور پر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اگر ہم ان کو حاصل نہیں کر پاتے تو پھر ہم اس کو مختلف طریقے سے انجام تک پہنچائیں گے۔‘۔
شرائط میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث فریقین کے اس معاہدے تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے جس سے ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے یا جاری رہنے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
تیل کی تجارت کے لحاظ سے اہم ترین سمجھی جانے والی یہ آبی گزرگاہ 28 فروری کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد بند کر دی گئی تھی جو ابھی تک بند ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔