Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پینٹاگون کا امریکی آٹو میکرز اور مینوفیکچررز سے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کے لیے رابطہ: رپورٹ

مارچ میں صدر ٹرمپ نے سات دفاعی ٹھیکیداروں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی تھی (فوٹو: روئٹرز)
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے جنرل موٹرز، فورڈ موٹر، جی ای ایرو سپیس اور اوشکوش سمیت بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ہتھیاروں اور فوجی سامان کی تیاری کے حوالے سے ابتدائی بات چیت کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ وسیع پیمانے پر ہونے والے رابطے ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے شروع ہوئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ امریکی آٹو میکرز اور دیگر مینوفیکچررز روایتی دفاعی ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کی پیداوار میں بڑا کردار ادا کریں۔ دفاعی حکام نے کمپنیوں سے پوچھا کیا ہے کہ کیا وہ تیزی سے دفاعی پیداوار کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں۔
پینٹاگون کے ایک اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ محکمہ دفاع ’دفاعی صنعتی بنیاد کو تیزی سے وسعت دینے کے لیے تمام دستیاب تجارتی حل اور ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ امریکی فوجی فیصلہ کن برتری برقرار رکھ سکیں۔‘
مارچ میں صدر ٹرمپ نے سات دفاعی ٹھیکیداروں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی تھی، کیونکہ پینٹاگون ایران پر امریکی حملوں اور دیگر حالیہ فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے سامان کی پیداوار کو بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔
روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے اور اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کے بعد امریکہ کے اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہوئے ہیں جن میں توپ خانے کے نظام، گولہ بارود اور اینٹی ٹینک میزائل شامل ہیں۔
ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ کے تناظر میں اس ماہ صدر ٹرمپ نے فوجی بجٹ میں 500 ارب ڈالر کے بڑے اضافے کی درخواست کی ہے جس سے بجٹ 1.5 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

 

شیئر: