Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان جنگ بندی ایران امریکہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہے: پاکستان

ترجمان کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری اور مثبت کوششیں کیں (فائل فوٹو: دفترِ خارجہ)
اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، حالیہ مذاکرات، علاقائی صورتِ حال اور انڈیا سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات انتہائی تعمیری اور مثبت کے ماحول میں ہوئے، جن میں پاکستان نے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری اور مثبت کوششیں کیں اور فریقین کے درمیان رابطے کے تمام چینلز کھلے رکھے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایران کی نمائندگی باقر قالیباف نے کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا دورانیہ تقریباً 21 گھنٹے تھا، جس میں براہ راست مکالمہ اور تفصیلی بات چیت جاری رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کی میزبانی اور انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز اس وقت ایران کے دورے پر ہیں جبکہ وزیراعظم 15 سے 18 اپریل تک سہ ملکی دورے پر ہیں، جو پاکستان کی امن کوششوں کا حصہ ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں امیر قطر، جرمن چانسلر، اطالوی وزیر اعظم، برطانوی وزیر اعظم، جاپانی وزیر اعظم اور کینیڈین وزیر اعظم شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بطور ثالث پاکستان کے لیے مذاکرات کو خفیہ رکھنا ضروری تھا۔ ان کے مطابق کون آئے گا، کون شامل ہوگا، اور کون کہاں قیام کرے گا، یہ تمام امور فریقین نے طے کیے تھے۔ پاکستان کی پالیسی قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے یکساں رہی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی تفصیلات کو امانت کے طور پر رکھا گیا کیونکہ یہ فریقین کے اعتماد کا حصہ تھا۔ میڈیا سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور مذاکرات انتہائی خاموشی، اعتماد اور رازداری کے ساتھ جاری رہے۔
ترجمان کے مطابق جوہری معاملہ بھی زیر بحث آنے والے اہم موضوعات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ فعال ہے اور ملک خطے میں جامع امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم  کے ریجنل اینٹی ٹیررازم سٹرکچر (آر اے ٹی ایس) میں بھرپور شرکت کی اور اسلام آباد میں چار ممالک کے سینئر حکام کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جن میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر شامل تھے۔
ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات پاکستان کا دیرینہ اور برادر دوست ملک ہے، تاہم اس کے مالی معاملات اس تنازع سے پہلے کے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ فعال ہے (فوٹو: ایس پی اے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے اسی مقصد کے تحت جاری ہیں۔
ترجمان نے لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کی۔ ان کے مطابق لبنان جنگ بندی امریکہ ایران کے درمیان ہو رہے مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے عمل میں بہتری کے آثار حوصلہ افزا ہیں، جبکہ کشیدگی میں کمی خطے میں استحکام اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے اور جنگ بندی سے خطے میں امن کے امکانات بڑھیں گے۔
انڈیا کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ’گائے کے تحفظ‘ کے نام پر انڈیا میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی روک تھام ضروری ہے۔
پاکستان نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں انڈیای مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی جانب سے کیا جانے والا غیرقانونی ڈی لمیٹیشن عمل آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کو ڈی لمیٹیشن ایکٹ میں شامل کرنا غیرقانونی اقدام ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ استصواب رائے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہے، جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے انڈین فوجی افسر کرنل پروہت کی ترقی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں ملوث تھا، اور اس طرح کے اقدامات انڈیا کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان نے اس کیس میں تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے کی تجدید کی۔
ترجمان نے پاکستان کوسٹ گارڈز پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اس حوالے سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

شیئر: