وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران فائرنگ سے ہلچل مچ گئی اور صدر ٹرمپ کو وہاں سے نکال لیا گیا۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور صدر ٹرمپ خیریت سے ہیں۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق واقعہ سنیچر کی رات کو اس وقت پیش آیا جب وہاں میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں عشائیہ چل رہا تھا۔
مزید پڑھیں
-
وائٹ ہاؤس کی ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی خبروں کی تردیدNode ID: 902904
صدر ٹرمپ سٹیج پر بیٹھے تھے اور انہوں نے تقریب سے خطاب کرنا تھا پھر ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لیے پہنچا جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دی، اس کے ساتھ ہی کچھ آوازیں سنائی دینے پر ہلچل مچ گئی اور صدر کو نکال لیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم صدر ٹرمپ ٹھیک ہیں۔
فاکس نیوز کے مطابق حملہ آور کی شناخت کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور عمر 31 سال ہے، جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
’گہرا صدمہ ہوا‘، وزیراعظم کا واقعے پر تشویش کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے فائرنگ کے واقعے پر دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کی صبح ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’تھوڑی دیر قبل تقریب میں فائرنگ کے پریشان کن واقعے پر گہرا صدمہ ہوا، تاہم یہ جان کر اطمینان ہوا کہ صدر ٹرمپ، خاتون اول اور دیگر شرکا محفوظ ہیں۔‘
’میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور ان کی سلامتی و تندرستی کی خواہش کرتا ہوں۔‘

تقریب فوری ختم، سب کو باہر نکال لیا گیا
واقعے کے وقت تقریب میں موجود سینکڑوں لوگ میزوں کے نیچے چھپتے ہوئے دیکھے گئے اور ایک آواز سنائی دی کہ ’راستے سے ہٹ جائیں سر‘
تقریب میں موجود بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پانچ سے آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں، سکیورٹی اہلکاروں نے ہال کو گھیرے میں لے لیا اور نیشنل گارڈز نے پوزیشنز سنبھال لیں۔
اس تقریب میں سینکڑوں مشہور صحافی اور مشہور شخصیات موجود تھیں، تقریب فوری طور ختم کر دی گئی اور افراد کو باہر نکال لیا گیا۔

اس تقریب میں صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کی تصدیق کی ہے تاہم مزید تفصیل جاری نہیں کی۔ سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ تمام حکام کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد عمارت کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دکھائی دیں اور تقریب کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔
’میرے خیال میں واقعے کا تعلق ایران جنگ سے نہیں‘
واقعے کے تھوڑی دیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں واقعے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی تقریب کو 30 روز کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے اہلکار پر گولی چلائی مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہا اور حملہ آور کو قابو کر لیا گیا۔
ان کے مطابق حملہ آور کے پاس کئی ہتھیار تھے اور انہوں نے خود حملہ آور کو پکڑنے والے اہلکار سے بات کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ان پر ہونے والے پچھلے حملوں کا ذکر بھی کیا اور سکیورٹی کی جانب سے فوری ردعمل کو سراہا۔
ان کے مطابق آپ چاہے ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، لبرل یا کوئی بھی، مگر ہم کو اپنے اختلافات کو ختم کرنا ہو گا۔












