Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ کو نکال لیا گیا، شوٹر گرفتار

تقریب کے دوران صدر ٹرمپ کو پرچی کے ذریعے کسی بات سے آگاہ کیا گیا جس کے ساتھ ہی آوازیں سنائی دیں (فوٹو: اے پی)
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر ’فائرنگ کی آوازیں‘ سنائی دی ہیں، جس پر ہلچل مچ گئی اور صدر ٹرمپ کو وہاں سے نکال لیا گیا۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور صدر ٹرمپ خیریت سے ہیں۔ 
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق واقعہ سنیچر کی رات کو اس وقت پیش آیا جب وہاں میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں عشائیہ چل رہا تھا۔
صدر ٹرمپ سٹیج پر بیٹھے تھے جب فائرنگ کی آواز سنائی دی اور سیکرٹ حرکت میں آتے ہوئے ان کو وہاں سے نکال کر لے گئی۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم صدر ٹرمپ ٹھیک ہیںَ۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے حوالے سے مزید صورت حال واضح نہیں ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقریب سے خطاب کرنا تھا اور وہ سٹیج پر موجود تھے تاہم اس سے تھوڑی دیر قبل ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لایا، جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دی اور ہلچل مچ گئی اور صدر کو نکال لیا گیا۔
اس دوران تقریب میں موجود سینکڑوں لوگ میزوں کے نیچے چھپتے ہوئے دیکھے گئے اور ایک آواز سنائی دی کہ ’باہر نکل جائیں سر‘
تقریب میں موجود بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پانچ سے آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں، سکیورٹی اہلکاروں نے بینکویٹ ہال کو گھیرے میں لے لیا اور نیشنل گارڈز نے پوزیشنز سنبھال لیں۔
اس تقریب میں سینکڑوں مشہور صحافیوں، سلیبریٹس اور دوسرے لوگ موجود تھے اور تھوڑی دیر میں ہال کو خالی کرا لیا گیا۔
فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ کیا ہوا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ کوئی حملہ آور تھا، تاہم مزید تفصیل دستیاب نہیں ہو سکی۔
اس تقریب میں صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔

شیئر: