Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’قدرتی دولت اور سمندری ورثہ‘: املج، ایک پائیدار سیاحتی منزل

املج کو تاریخی طور پر ’الحورا‘ یا سفید شہر کے نام سے جانا جاتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں املج کمشنری عالمی سیاحت کے نقشے پر نئی شناحت بنا رہی ہے۔ املج، اپنی قدرتی دولت اور سمندری ورثے کے باعث  ایک پائیدار منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔   
 سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق املج کمشنری کی نمایاں خصوصیت اس کے سو سے زائد غیرآباد جزائر ہیں، جو اسے ایک منفرد جزیرہ نما کا درجہ دیتے ہیں۔
اس جزیرے کے نیلگوں فیروزی پانی اور حیاتیاتی تنوع میں مرجانی چٹانیں پھلتی پھولتی ہیں اور یہ سینکڑوں اقسام کی سمندری حیات کا مسکن ہے۔
املج کو تاریخی طور پر ’الحورا‘ یا سفید شہر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا یہ نام وہاں کی سفید ریت کی وجہ سے پڑا تھا۔ اب املج کی جدید شناحت کو مملکت کے سیاحتی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے تشکیل دیا جا رہا ہے۔
ساحلی سیاحت کے فروغ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کےلیے کام کرنے والے مختلف سرکاری ادارے،  جن میں بحیرہ احمر اتھارٹی شامل ہے کام کررہے ہیں، جس کا مقصد سیاحت اور سرمایہ کاری کےلیے کشش کو بڑھانا ہے۔
یہاں موجود ’ام سحر‘ اور ’الفوایدہ‘ جزائر تنوع کی بہترین مثال ہیں، جہاں سبز کچھوے، عقابی جونچ والے کچھوے، ڈولفن اور ڈوگونگ( سمندری گائے) موجود ہیں، جبکہ نقل مکانی کرکے آنے والے پرندے بھی ان ساحلوں کو منتخب کرتے ہیں۔

املج کمشنری صدیوں سے سمندری تجارت کا اہم مرکز رہی ہے، اس کی بندرگاہ جزیرہ عرب اور افریقی ساحلوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ تھی، جہاں ’عویدان‘ اور ’سھالہ‘ جیسی روایتی بادبانی کشتیاں گزشتہ صدی کے وسط تک مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے تک لے جانے کےلیے موجود رہتی تھیں، تاہم اب جدید سمندری ٹرانسپورٹ کے باعث ان کا استعمال محدود ہو گیا ہے۔
املج، کے ایک قدیم ماہری گیر امین السنوسی  کا کہنا ہے’بادبانی کشیاں علاقے کی معاشی شہ رگ تھیں، تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ املج کو بحیرہ احمر کی دیگر بندرگاہوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
مقامی ماہی گیر کے مطابق ’یہ کشتیاں مقامی سمندری ثقافت ار شناخت کی عکاس تھیں۔‘

 کشتی سازی کی صنعت سے منسلک کاریگر عبدالعزیز الحلوانی کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں بادبانی کشتی سازی انتہائی اہم صنعت مانی جاتی تھی۔ اب وہ اس ورثے کو محفوظ رکھنے کےلیے ان کشتیوں کے ماڈلز تیار کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں تک یہ سمندری تاریخ منتقل ہوسکے۔‘
یہاں موجود قدیم تاریخی علاقے میں واقع ’سوق الرقعہ‘ املج کے نمایاں ثقافتی مقامات میں شامل ہے، جہاں بحالی کے کام کے بعد قدیم طرز تعمیر کو زندہ رکھا گیا ہے۔ یہاں ’سوق الصاغہ‘ اور ’سوق الاقمشہ‘ جیسے روایتی بازار آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسی علاقے میں ’المناخہ میوزیم‘ بھی ہے، جہاں ہزاروں نوادرات محفوظ ہیں، جو قدیم طرز زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آتش فشانی پتھروں سے تعمیر کیے جانے والا املج کا تاریخی قلعہ بھی علاقے کی تعمیراتی اور تاریخی اہمیت کا گواہ ہے۔

املج کے مشرق میں ’حرۃ لونیر‘ ایک منفرد ارضیاتی منظر کا حامل مقام ہے، جہاں سیاہ لاوے کا ایک وسیع میدان اس خطے کو ایک منفرد بصری حسن عطا کرتا ہیں۔
قدرتی حسن اور ثقافت کے ورثے نے املج کو ایک ابھرتی ہوئی ساحلی سیاحتی منزل بنا دیا ہے۔ سعودی بحیرہ احمر اتھارٹی اپنے سرکاری و نجی شراکت داروں کے ساتھ سیاحت کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

شیئر: