95 ہزار چینلز اور 60 فیصد واچ ٹائم غیرملکی: پاکستان میں یوٹیوب پر کیا تخلیق ہو رہا ہے؟
95 ہزار چینلز اور 60 فیصد واچ ٹائم غیرملکی: پاکستان میں یوٹیوب پر کیا تخلیق ہو رہا ہے؟
پیر 15 دسمبر 2025 16:52
’ولڈ لینز بائے ابرار‘ دنیا بھر کا سفر موٹر سائیکل پر کرتے ہیں (فوٹو: یوٹیوب)
پاکستان میں یوٹیوب پر کونٹینٹ کری ایشن یا مواد کی تیاری کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ملک کے ڈیجٹیل منظرنامے پر تخلیق کاروں، فنکاروں اور سٹوری ٹیلرز کا ایک متحرک نظام موجود ہے۔
جیسے ہی ہم سال 2026 میں داخل ہو رہے ہیں پاکستانی تخلیقی صلاحیتیں صرف ملک کے اندر ہی پروان نہیں چڑھ رہیں بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
سنہ 2025 میں 95 ہزار سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلز نے 10 ہزار سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کیا ہے جبکہ 13 ہزار سے زیادہ چینل ایسے تھے جن کے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ سبسکرائبرز سے تجاوز کر گئی۔
اسی طرح سے ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی چینلوں نے 10 لاکھ سبسکرائبرز کا بڑا ہدف بھی عبور کیا جو عالمی سطح پر پاکستانی کونٹینٹ کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
سب سے زیادہ متاثر کن پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی رسائی ہے جہاں پاکستانی مواد کے مجموعی واچ ٹائم کا 60 فیصد سے زائد حصہ بیرونِ ملک ناظرین پر مشتمل ہے۔
کراچی سے کوالالمپور، لاہور سے لندن تک، پاکستانی تخلیق کار ثقافت، تفریح اور مشترکہ انسانی تجربات کے ایسے پُل قائم کر رہے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہیں۔
گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بزنس و آپریشنز فرحان قریشی کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی تخلیق کاروں کی طرف سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف مقامی ناظرین کے لیے مواد تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ ایسی کہانیاں، نقطۂ ہائے نظر اور تفریحی مواد تخلیق کر رہے ہیں جو براعظموں کے پار لوگوں کے دلوں کو چھو رہا ہے اور اس چیز کی ازسرِنو تعریف متعین کر رہا ہے کہ عالمی سطح کا تخلیق کار ہونے کا مطلب کیا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کا اثر صرف ویوز اور سبسکرائبرز تک محدود نہیں بلکہ یہ تخلیق کار پائیدار کاروبار قائم کر رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں بامعنی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ایسی تخلیقی صلاحیت ہے جو ثقافتی اور معاشی دونوں حوالوں سے حقیقی ثمرات فراہم کر رہی ہے۔‘
متنوع مواد، تخلیقی صلاحیت اور تخلیق کاروں کے نظام کی نمو میں پیش رفت
پاکستان سے پیش کیا جانے والا متنوع مواد ملک کی شاندار ثقافتی بُنت کی عکاسی کرتا ہے۔ تخلیق کار سنسنی خیز ڈراموں اور کھانے پکانے کی مہم جوئی سے لے کر پوڈکاسٹس، فیشن، لائف سٹائل ویڈیوز، ایجوکیشنل مواد، دستاویزی فلموں اور ٹیکنالوجی کے جائزوں تک سب کچھ تخلیق کر رہے ہیں۔
کنیکٹڈ ٹی وی (Connected TV) کے ناظرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ معروف تخلیق کار اب طویل، اعلیٰ معیار کی پروڈکشن پر مبنی سلسلہ وار مواد تخلیق کر رہے ہیں جو روایتی ٹیلی وژن کا مقابلہ کرتا ہے۔
شاہ ویر جعفری کا ’مافیا‘ گیم شو یوٹیوب پر سنیما جیسی پروڈکشن ویلیوز پیش کرتا ہے جبکہ رانا حمزہ سیف کے ایک گھنٹے پر مشتمل فوڈ ریویوز اور چیلنجوں نے اس صنف کو نئی تعریف دی ہے۔ ’سم تھنگ ہاٹ‘ (Something Haute) کا ہفتے میں تین بار نشر ہونے والا ڈرامہ ریویو شو ایک مستقل ناظرین کا حلقہ بنا چکا ہے اور ’وائلڈ لینز بائے ابرار‘ (WildLens by Arbrar) کی ٹریول سیریز جو اب اپنے شاندار نویں سیزن میں ہے دستاویزی سطح کی سینماٹوگرافی کے ساتھ دنیا کو دریافت کر رہا ہے۔
پاکستانی تخلیق کار مخصوص دلچسپیوں اور شوق پر مبنی خصوصی مواد کے شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ ’ہمنہ کا گرام (Hamna’s Gram)‘ خواتین کے کپڑوں کی دکانوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے جو صارفین کی رہنمائی میں ایک خُلا کو پُر کرتا ہے۔
’زلمی‘ اپنے تخلیقی چیلنجوں کے ذریعے ناظرین کو مسحور کرتا ہے جبکہ ’گلو اپ ود ماہ نور‘ فیشن اور بیوٹی کے شائقین کے لیے ایک پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔
’پاک ویلز‘ نے یوٹیوب پر پاکستان کی سب سے بڑی آٹوموٹو کمیونٹی قائم کی ہے جو گاڑیوں کے تفصیلی جائزوں سے لے کر کاروں کے تقابلی جائزوں اور صنعت کی اہم معلومات تک سب کچھ فراہم کرتی ہے۔
’عدیل ولاگز‘ (Adeel Vlogs) ٹیپ بال کرکٹ کی محبوب دنیا کو محفوظ کرتا ہے جو ایک منفرد پاکستانی جذبے کی تعریف کرتا ہے۔
تعلیمی مواد یا ’ایجوٹینمنٹ (edutainment) نمایاں طور پر ترقی کا تجربہ کر رہا ہے۔ ’مینوکٹوپس‘ (Minoqtopus) سوچ بچار پر مبنی ویڈیو مضامین تخلیق کرتا ہے جو پیچیدہ موضوعات کو آسان بناتے ہیں.
’پاکستان اینڈ کاؤنٹنگ‘ (Pakistan&Counting) کاروباری اور معاشی مسائل کا جائزہ لیتا ہے، مشعل خان عام پاکستانیوں کے لیے مالی خواندگی کو آسان بناتی ہیں اور مزمل حسن کا ’تھاٹ بی ہائنڈ تھنگز‘ (Thought Behind Things) گہرائی میں جانے والے انٹرویوز پیش کرتا ہے اور بامعنی گفتگو کو جنم دیتے ہیں۔
یوٹیوب پر پاکستانی مواد کا یہ دھماکہ محض تفریح نہیں بلکہ معاشی بااختیاری، ثقافتی تبادلہ اور تخلیقی کاروبار کا امتزاج بھی ہے جو ایک متحرک پلیٹ فارم میں سمٹ آیا ہے۔
پاکستانی تخلیق کار اپنے شوق کو پیشوں میں بدل رہے ہیں، اپنے ناظرین کی کیمونیٹیز شکیل دے رہے ہیں اور اپنے مواد کو پاکستان اور دنیا کے درمیان ایک پل بنا رہے ہیں۔
پاکستانی یوٹیوب کمیونٹی کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ روزانہ نئے چینلز متعارف ہو رہے ہیں۔
پاکستانی مواد یہ ثابت کر رہا ہے کہ بہترین کہانی سنانے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یہ کہ حقیقی آوازیں دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے ناظرین تلاش کر سکتی ہیں۔