Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجران کی قدیم و تاریخ مسجد ابوبکرالصدیق کی تعمیرِ نو مکمل

تعمیرِ نو کے بعد مصلوں کی گنجائش 118 تک ہو گئی (فوٹو، ایس پی اے)
 مملکت کے مختلف علاقوں میں تاریخی و قدیم مساجد کی تعمیرِ نو کے حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت نجران ریجن میں مسجد ابوبکرالصدیق کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق مملکت میں موجود قدیم مساجد کی بحالی اور انکی تاریخی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہم ترین اہداف میں شامل ہے۔
مساجد کی تعمیرِ نو کے دوسرے مرحلے کے تحت نجران ریجن کی کمشنری ثار میں واقع مسجد ابوبکرالصدیق کی تعمیرِنو کا کام مکمل کیا گیا۔ قدیم و تاریخی مسجد اہم دینی ورثہ بھی ہے جو کمشنری کے پرانے شہر کے قلب میں واقع ہے۔
مسجد اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ اس وقت علاقے کی واحد جامع مسجد تھی جہاں علاقے اور قرب و جوار کی بستیوں کے لوگ جمعہ کی نمازادا کیا کرتے تھے۔
مسجد ابوبکر الصدیق محض نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس دور میں ثقافتی و معاشرتی طورپر بے اہم مقام کی حامل تھی جہاں روز مرہ کے معاملات بھی طے کیے جاتے اور باہمی اختلافات کے فیصلے بھی ہوتے تھے۔

 علاقے کی واحد جامع مسجد تھی جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی تھی (فوٹو، ایس پی اے)

مسجد تقریبا 130 مربع میٹر  رقبے پرنجران کے مروجہ فن تعمیر کے انداز میں بنائی گئی تھی، اس وقت اس میں 57 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہوا کرتی تھی۔
قدیم مسجد میں مرکزی ہال ، برآمدہ اور بیرونی صحن کے علاوہ خلوہ ( مرکزی ہال کے نیچے بنایا جانے والا خصوصی کمرہ جہاں موسم سرما میں نماز ادا کی جاتی تھی) بھی بنایا گیا تھا۔
مسجد کی تعمیر پختہ اینٹوں کی تھی جبکہ چھت کے لیے مخصوص لکڑی کا استعمال کیا گیا جو علاقائی فن تعمیر کا شاہکار تھا۔
شہزادہ محمد بن سلمان پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں مسجد کی تعمیرِ نو اسی انداز میں کی گئی تاکہ اس کی اصل شناخت کوبرقرار رکھا جائے۔
تعمیرِ نو اور بحالی کے بعد مسجد میں مصلوں کی گنجائش بڑھ کر 118 ہو گئی جبکہ خواتین کے لیے بھی نماز کی علیحدہ جگہ مخصوص کی گئی اور مردانہ و زنانہ وضو خانے بھی بنائے گئے۔

شیئر: