Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تاریخی مساجد کی بحالی: نجران میں مسجد ابوبکر الصدیق کی تعمیرِ نو مکمل

مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے تحت قدیم مساجد کی بحالی کا کام جاری ہے۔
’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘، سعودی وژن 2030 کے اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس میں مملکت میں تاریخی حیثیت کی حامل مساجد کی تعمیرِ نو اور بحالی شامل ہے۔
مساجد کی تعمیرِ نو کے دوسرے مرحلے کے تحت نجران ریجن کی کمشنری ثار میں واقع مسجد ابوبکر الصدیق کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ قدیم و تاریخی مسجد کمشنری کے پرانے شہر کے قلب میں واقع اہم دینی ورثہ بھی ہے۔
مسجد اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اس وقت علاقے کی واحد جامع مسجد تھی، جہاں قریبی اور دور دراز کی بستیوں کے لوگ جمعہ کی نماز ادا کرنے آتے تھے۔
مسجد ابوبکر الصدیق محض نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس دور میں یہ ثقافتی اور معاشرتی طور پر بھی بے حد اہمیت کی حامل تھی، جہاں روزمرہ کے معاملات طے کیے جاتے اور باہمی اختلافات کے فیصلے بھی کیے جاتے تھے۔
مسجد تقریباً 130 مربع میٹر رقبے پر نجران کے مروجہ فن تعمیر کے انداز میں بنائی گئی تھی  اور اُس وقت اس میں تقریباً 57 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہوا کرتی تھی۔
قدیم مسجد میں مرکزی ہال، برآمدہ اور بیرونی صحن کے علاوہ خلوہ (مرکزی ہال کے نیچے بنایا جانے والا خصوصی کمرہ جہاں موسم سرما میں نماز ادا کی جاتی تھی) بھی بنایا گیا تھا۔

مسجد کی تعمیر پختہ اینٹوں سے جبکہ چھت کے لیے مخصوص لکڑی استعمال کی گئی جو علاقائی فن تعمیر کا شاہکار تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں مسجد کی تعمیرِ نو اسی انداز میں کی گئی تاکہ اس کی اصل شناخت کو برقرار رکھا جائے۔
تعمیرِ نو اور بحالی کے بعد مسجد میں مصلوں کی گنجائش بڑھ کر 118 ہو گئی، جبکہ خواتین کے لیے بھی نماز کی علیحدہ جگہ مخصوص کی گئی اور مردانہ و زنانہ وضو خانے بھی بنائے گئے۔

شیئر: