Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ: روئٹرز

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔
پیر کو ہونے والی اس گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے معاملے پر ان کے مشورے پر غور کریں گے جو ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا اعلان تھا۔
اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے بارے میں ثالث پاکستان کو بتا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہونے کا کوئی ارادہ نہیں اور وفد پاکستان نہیں جائے گا۔‘
اسماعیل بقائی کے مطابق ’امریکہ نے پھر جارحیت کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔‘
خیال رہے مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے جا رہا تھا جس کے لیے تیاریاں بھی کر لی گئی تھیں جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی اعلان کیا تھا کہ پیر کی شام ان کے نمائندے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
تاہم اتوار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کے ایک کارگو جہاز کو قبضے میں لیا گیا ہے جس کو ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس سے قبل مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے جس میں 10 اور 11 اپریل کو دونوں ملکوں کے نمائندوں نے بات چیت کی تاہم وہ کسی نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئی تھی اور وفود واپس چلے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ’بہت ہی منصفانہ اور معقول ڈیل پیش کی جا رہی ہے جسے قبول کر لیا جائے گا‘ (فوٹو: اے پی)

تاہم پاکستان پھر بھی متحرک رہا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوشش کے نتیجے میں دونوں ممالک ایک بار پھر میز کے گرد بیٹھنے پر تیار ہوئے تھے۔
اتوار کو بھی ایرانی میڈیا پر بتایا گیا تھا کہ وہ مذاکرات کے اگلے دور میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق موجودہ صورت حال ایک ایسے وقت میں بنی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نمائندوں کا پاکستان کا سفر کرنے کا حکم دے چکے ہیں جبکہ دوسرے جانب امریکہ و ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے سلسلے کے آگے بڑھنے میں ناکہ بندی کا اعلان رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے جبکہ امریکہ نے ایران کے جہاز پر قبضہ بھی کیا۔
اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ایران مذاکرات میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہی بیان آگے چل کر اسماعیل بقائی نے بھی دیا ہے۔

امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور رواں ماہ اسلام آباد میں ہوا تھا (فوٹو: روئٹرز)

امریکہ و اسرائیل اور ایران اس وقت جنگ بندی ہونے سے دو روز کے فاصلے پر ہیں، جس کی بدولت چھ ہفتے سے جاری جنگ رک گئی تھی۔
پچھلی بار اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت 21 گھنٹے کی بات چیت ہوئی تھی، جو بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گئی تھی تاہم اگلے دور کے امکانات پھر بھی روشن تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک پوسٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ ’ہم بہت ہی منصفانہ اور معقول ڈیل پیش کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اس کو قبول کر لیں گے۔‘
تاہم انہوں نے ڈیل نہ ہونے کی صورت میں اپنی ان دھمکیوں کو ایک بار پھر دوہرایا جن میں بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کا ذکر ہے۔

 

شیئر: