Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسجد نبوی کے ستون، عہد نبوی کی لازوال نشانیاں

ابتدا میں یہ ستون، کھجور کے درخت کے تنوں سے بنائے گئے تھے (فوٹو: ایس پی اے)
مسجدِ نبوی میں ریاض الجنہ کے آٹھ ستون، ایسے مستقل روحانی نشانات ہیں جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے اہم ترین لمحات کی دستاویزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اول اول یہ ستون، کھجور کے درخت کے تنوں سے بنائے گئے تھے لیکن بعد میں اِنھیں پتھروں سے بنے ستونوں سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اِن ستونوں پر پہچان کے لیے آج بھی انتہائی اہمیت کے نام درج ہیں جن میں ’المخلّقہ ستون‘ (روایات کے مطابق وہ ستون جہاں خطبے کے دوران حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کمر کو آرام دینے کے لیے ٹیک لگا لیا کرتے تھے)۔
اس کے علاوہ دیگر ستونوں میں ’ستون القرعہ‘ بھی ہے جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ستون بھی کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ’ستونِ توبہ‘ بھی ہے، اسے ابی لبابہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اِن میں سے ہر ستون کسی ایسی جگہ کی یادگار ہے جہاں پیغمبرِ اسلام نے دعا فرمائی تھی، یا دیگر مقامات سے آنے والے وفود کا استقبال کیا تھا یا عبادت یا پھر نماز کے لیے اِن ستونوں کی طرف گئے تھے۔

یہ ستون آج بھی مسجدِ نبوی کے فنِ تعمیر اور روحانی وراثت کا بنیادی حصہ ہیں جو اِسلامی تاریخ کے اِبتدائی ایام اور زائرین کے درمیان ایک قابلِ محسوس رابطے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
سعودی حکومت نے مسجد نبوی سمیت اس کے تاریخی نشانات کو خصوصی اہمیت دی ہے۔

شیئر: