امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر یقینی مدت کے لیے (نازک) جنگ بندی میں توسیع کے چند گھنٹے بعد، ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہازوں کو قبضے میں لے لیا اور تیسرے پر فائرنگ کر دی۔
اس وقت کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔
مذاکرات کی میز پر معاہدے کو مسترد کر کے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک میں کشیدگی کو ہوا دے کر تہران نے عین وہی غلطی کی ہے جس کی اس کے سخت گیر مخالفین کو توقع تھی۔ اس نے اپنے لیے آپشنز کو محدود کر لیا ہے اور ساتھ ہی اپنے دشمنوں کو دوبارہ تصادم کے لیے ایک ٹھوس جواز فراہم کر دیا ہے۔
تاہم، ایران خودکشی کے درپے نہیں ہے۔ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد اقتدار کی منتقلی کے ادھورے عمل اور مزاحمت کے بیانیے کو برقرار رکھنے کے مقدس تقاضے کے درمیان — انتہائی خطرناک انداز میں — ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے 28 فروری کو قتل نے نہ صرف ایک زندگی ختم کی بلکہ اس مذہبی طبقے کے ڈھانچے کو بھی توڑ دیا جس نے سنہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد سے ایرانی سیاست کو سنبھال رکھا تھا۔
اس خلا کو سخت گیروں اور عملیت پسندوں کے ایک چھوٹے سے حلقے نے پُر کیا ہے۔ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے قائم مقام کمانڈر احمد وحیدی جو حکومت کی انتہائی ظالمانہ مہمات کے تجربہ کار ہیں، اب فیصلہ کن آپریشنل اختیار رکھتے ہیں۔
ان کے ساتھ محمد باقر قالیباف موجود ہیں جو آئی آر جی سی کے سابق کمانڈر اور تہران کے میئر رہے ہیں، جن کی سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی گہرائی انہیں انقلابی بنیادی ڈھانچے اور ریاست کے ظاہری چہرے کے درمیان ایک ضروری کڑی بناتی ہے۔
یہ اقتدار پر کوئی انتشار انگیز قبضہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی، اگرچہ غیر شفاف، ترتیبِ نو ہے؛ آئی آر جی سی کے گہرے غلبے کی طرف ایک ارتقاء جسے بغیر کسی رکاوٹ کے تسلسل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

سویلین قیادت (صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی) آزاد عمل کار کے طور پر نہیں بلکہ قانونی حیثیت کے ضروری آلات کے طور پر کام کر رہی ہے۔ وہ حکومت کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے ساتھ محض ایک مسلح گروہ کے بجائے ایک تسلیم شدہ ریاست کے طور پر بات چیت کر سکے۔ وحیدی اور قالیباف اس نقاب کی قدر کو سمجھتے ہیں۔
یہ وہی نازک توازن ہے جو ایٹمی مسئلے پر تہران کی خطرناک ہچکچاہٹ کی وجہ ہے۔ افزودہ یورینیم کا پروگرام حکمت عملی سے بالاتر ہو کر انقلاب کی آخری مقدس نشانی بن چکا ہے۔ اسے اب، دباؤ میں آ کر چھوڑ دینا، حکومت کے خود ساختہ امیج کو اسی وقت تباہ کر سکتا ہے جب اس کا نیا ڈھانچہ ابھی مضبوط ہو رہا ہے۔ اور اسی لیے آبنائے میں یہ کارروائی کی گئی: معاہدے کو مسترد کرو، کنٹرول کا مظاہرہ کرو اور نہ جھکنے والی طاقت کا اظہار کرو۔ یہ مزید وقت (مہلت) لیتا ہے اور وقار کا تحفظ کرتا ہے۔
وحیدی، قالیباف اور آئی آر جی سی کے اندرونی حلقے کے حساب سے، ایک کامیاب ایرانی بیانیہ کبھی بھی ہتھیار ڈالنے کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے انقلابی چالاکی کے شاہکار کے طور پر فروخت کیا جائے گا۔
قتل اور بمباری سے زخمی ہونے والا ایران عاجز نہیں بلکہ سرخرو ہو کر ابھرے گا۔ اس نے آبنائے پر قبضہ کیا، سلطنتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور کمزوری کے بجائے خام طاقت کے ذریعے واشنگٹن اور تل ابیب کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے پر مجبور کر دیا۔
حتمی معاہدہ جس کے لیے سوئس سفارت کاروں نے نہیں بلکہ پاکستان کے جنگ آزمودہ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی کی، اسے تزویراتی صبر کی فتح کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ افزودگی پر وقار بچانے والی حد کو پروگرام کے مقدس جوہر کے تحفظ کے طور پر، پابندیوں میں نرمی کو ’شیطانِ بزرگ‘ سے وصول کیے گئے خراج کے طور پر پیش کیا جائے گا اور اس پورے واقعے کو اس ثبوت کے طور پر کہ اسلامی جمہوریہ نے ایک بار پھر ظاہری شکست کو فتح میں بدل دیا ہے، اس کا ایٹمی پروگرام برقرار ہے اور اس کا انقلابی اعزاز سلامت ہے۔
تاریخ کے اس ورژن میں حکومت ہتھیار نہیں ڈالتی، وہ اپنی بقا کی شرائط خود طے کرتی ہے اور ظاہری شکست کو ’عظیم غضب‘ کے سامنے ’عظیم مزاحمت‘ کے تازہ ترین باب میں بدل دیتی ہے۔
تاہم، خطرہ شدید ہے۔ ہر پکڑے گئے جہاز اور فائرنگ کے ہر واقعے کے ساتھ وہ پھندا مزید سخت ہو رہا ہے جو ایران نے خود اپنے گلے میں ڈالا ہے۔

تاریخ ایسی غلطیوں کو معاف نہیں کرتی۔ صدام حسین کے کویت میں ایڈونچر سے لے کر سلو بوڈان میلوشووچ کی نیٹو کے خلاف مزاحمت تک، جن رہنماؤں نے یہ جوا کھیلا کہ تزویراتی حکمت کے متبادل کے طور پر تکٹیکل بدمعاشی کام آئے گی، انہوں نے اکثر تباہ کن قیمت چکائی ہے۔
پھر بھی واپسی کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ جنیوا کے خوشگوار ہالوں میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں پاکستان کے آرمی چیف کے پاس۔ عاصم منیر کے پاس ایک نایاب اثاثہ ہے اور وہ ہے ان لوگوں کے ساتھ اعتماد کا تعلق جو ایران کی بندوقوں کا کنٹرول رکھتے ہیں۔
ایک سولجر سٹیس مین جو ڈیٹرنس اور آپریشنل ضمانتوں کی زبان روانی سے بولتا ہے، وہ وقار کو بچانے والی اور فوجی طور پر قابل تصدیق ضمانتیں دے سکتا ہے جنہیں وحیدی، قالیباف اور ان کے ساتھی قبول کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے بھی اہم مفادات داؤ پر لگے ہیں، افغان سرحد پر استحکام سے لے کر توانائی کی سپلائی کی سکیورٹی تک، جس پر اس کی معیشت کا دارومدار ہے۔
ایران کی مشکلات میں گھری قیادت کے لیے یہ آخری قابلِ عمل راستہ ہو سکتا ہے: فوجی حقیقت پسندی کے زیر سایہ سفارت کاری۔ یہ انہیں اپنے پیارے بیانیے کا اتنا حصہ محفوظ رکھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے کہ وہ گھر میں جیت کا دعویٰ کر سکیں جبکہ بیرون ملک تباہی سے بچ سکیں۔
آخر کار تہران کے اندرونی حلقے کو ایک فیصلہ کن موڑ کا سامنا ہے۔ وہ آبنائے میں اپنے خطرناک جوئے کو جاری رکھ سکتے ہیں، ہر پکڑے گئے جہاز اور فائرنگ کے ساتھ اپنے ہی بنے ہوئے جال کو مزید تنگ کرتے ہوئے یا وہ اس تنگ دروازے سے گزر سکتے ہیں جسے اسلام آباد نے کھلا رکھا ہے اور فوجی حقیقت پسندی کی راہ اختیار کر سکتے ہیں جو انہیں بربادی کے دہانے پر جائے بغیر اپنے انقلابی بیانیے کو محفوظ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔

یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی خود بھی مزاحمت کی حدود کو سمجھتے تھے۔
سنہ 1988 میں آیت اللہ خمینی نے عراق کے ساتھ اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی قبول کی جسے انہوں نے ایک تلخ ’زہر کا پیالہ‘ قرار دیا تھا تاکہ انقلاب کو لامتناہی جنگ میں ختم ہوتے نہ دیکھیں۔
تاریخ اسی طرح کی تنبیہات پیش کرتی ہے۔ سنہ 1967 میں جمال عبدالناصر کی طرف سے آبنائے تیران کی بندش، جس کا مقصد غیر متزلزل طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا، اس کے بجائے تباہ کن چھ روزہ جنگ اور ایسی تذلیل کا باعث بنی جس نے مصر کو قریباً توڑ دیا تھا۔
دانشمندی سے عاری تکبر نے کسی بھی دشمن سے زیادہ حکومتوں کا تختہ الٹا ہے۔ آج ایران کے لیے، باوقار بقا کا ایک معمولی سا موقع اب بھی باقی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس کے رہنماؤں میں اتنی ہمت اور دور اندیشی ہے کہ تاریخ کا بے رحم فیصلہ آنے سے پہلے اس موقع کو حاصل کر سکیں۔
سارہ بن عاشور ایک بحرینی جغرافیائی سیاسی تجزیہ کار اور سیاسی مبصر ہیں، جو خلیجی سکیورٹی میں مہارت رکھتی ہیں۔ وہ لندن میں قائم ڈیجیٹل تھنک ٹینک ’ٹوموروز افیئرز‘ میں ڈائریکٹر آف آؤٹ ریچ ہیں۔ اس سے قبل وہ لندن میں تعینات بحرین کے سفیر کیاسٹریٹجک مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔












