’نیچے رہو نیچے‘، گولیوں کی آواز نے پُررونق محفل کو کیسے مناظر میں دھکیلا؟
گولیوں کی آواز نے اس محفل کا نقشہ ہی بدل دیا جو صدر ڈونلڈ کی موجودگی میں کافی گلیمر لیے ہوئے تھی، دھیمی روشنی میں ہلکا میوزک سنائی دے رہا تھا مگر کچھ آوازیں آتی ہیں۔
اس کے بعد شرکا کو ان میزوں کے نیچے کے نیچے چھپتے نظر آتے ہیں جن کے اوپر قیمتی کراکری اور نیپنکز پڑے ہوئے تھے۔
اے ایف پی اور دوسرے خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں وہ مناظر دکھائی دیتے ہیں جن میں ہر طرف افراتفری مچی ہوئی ہے۔
ویڈیوز کے مطابق صدر ٹرمپ صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کی تقریب میں سٹیج پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہے، دھیمی روشنی میں محفل کافی اچھی لگ رہی ہے، مگر کچھ ایسی آوازیں آتی ہیں جن سے ہلچل پیدا ہوتی ہے اور خطرے کی گھنٹی کی سی فضا پیدا ہوتی ہے۔
ایک ویڈیو کے مطابق گولیاں چلنے جیسی آواز آتے ہی کوئی زور سے پکارتا ہے ’نیچے رہو‘، کوئی کہتا ہے لیٹ جاؤ اور پھر ملی جلی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور افراتفری مچ جاتی ہے۔
اسی دوران ہی سیکرٹ سروس کے اہلکار آگے بڑھتے ہوئے سٹیج پر بیٹھے صدر ٹرمپ کو گھیرے میں لیتے ہوئے پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں اور پہلے سے ہی غیریقینی کے شکار حاضرین مزید پریشانی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
افراتفری پیدا ہوتے ہی اس میوزک کی آواز بھی رک جاتی ہے جو تھوڑی دیر قبل ہلکی ہلکی ابھر رہی تھی، یہ واقعہ اسی ہال میں پیش آیا ہے جہاں 45 سال قبل صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور وہ اس میں بچ گئے تھے۔
صدر ٹرمپ کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ مہمیٹز اوز اس وقت یہ کہتے سنائی دیتے ہیں جب سکیورٹی اہلکار ان کو لے کر جا رہے ہیں کہ ’اوپر سیڑھیوں کی طرف فائرنگ ہوئی ہے۔‘
ویڈیوز میں ہیلتھ اینڈ سروسز کے سیکریٹری رابرت ایف کینیڈی جونیئر کو بھی ہال سے باہر نکالے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن کے چچا جان ایف کینیڈی کو 1963 میں ٹیکلاس کے علاقے ڈیلاس میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب ان کی گاڑی سڑک پر سے گزر رہی تھی اور لوگ ان کی طرف دیکھ کر خوشی سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔
ون امریکہ نیوز کی نامہ نگار الیگزینڈرا انگرسول نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب افراتفری مچی تو اس وقت وہ اندر ہی موجود تھیں اور صدر کی حفاظت پر مامود سیکرٹ سروس کو حرکت میں آتے ہوئے دیکھا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں فوراً میز کے نیچے چلی گئی اور بچنے کی کوشش کی، اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور کیا حملہ آور کو قابو کر لیا گیا ہے۔‘
اندر کے علاوہ لابی اور باہر کی کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں تقریب کے شرکا کو جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد باہر لوگوں کو ایک دوسرے سے گلے لگتے ہوئے دیکھا گیا کچھ لوگ دوستوں اور رشتہ داروں کو فون اور ٹیکسٹ میسج کرتے رہے۔
اصل میں وہاں کیا ہوا تھا، اس کے بارے میں ابتدائی تفصیلات تو سامنے آ چکی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
خیال رہے تقریب کے دوران باہر فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا، صدر ٹرمپ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاکردگی کو سراہا ہے۔