ٹرمپ کی ایران جنگ جلد ختم کرنے کی پیش گوئی، جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے: تہران
ٹرمپ کی ایران جنگ جلد ختم کرنے کی پیش گوئی، جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے: تہران
منگل 10 مارچ 2026 7:13
صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی تیل کی شپمنٹس کو روکنے کی کوشش نہ کرے (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مشرق وسطیٰ کی تیل کی شپمنٹس کو روکا تو جنگ کو مزید شدید کر دیا جائے گا تاہم ساتھ میں یہ بھی کہا کہ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انتباہ پیر کو ایک ایسے دن کے اختتام پر سامنے آیا جب عالمی منڈیوں میں ایسے خدشات دیکھے گئے کہ ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پیچھے کھڑی ہے اور جلد پیھچے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔
فلوریڈا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی ایئر فورس اور نیوی نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جنگ چار ہفتوں کے ٹائم فریم سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فتح کس قسم کی ہو گی۔
انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کے ٹینکرز کو روکنے کی کوشش تو امریکہ کی جانب سے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکر کی آمدورفت کو روکنے کی کوشش کی تو امریکی حملوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے جو دنیا کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ سنبھالتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ ہو کر گزرتا ہے۔
ان کے مطابق ’ہم انہیں اتنا سخت ہٹ کریں گے کہ دنیا کے اس حصے کو نہ صرف ان کے لیے بحال کرنا ممکن نہیں ہو گا بلکہ کسی اور کی جانب سے ان کی مدد کرنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔‘
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے جنگ جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین وہ خود کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے تو ’ایک لیٹر تیل‘ کو بھی خطے سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ’ہم وہ ہیں کہ جو جنگ کے اختتام کا تعین کریں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کی رپورٹس میں کئی شہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو نئے رہنما کی حمایت میں ریلیاں بنا کر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنہوں نے ایرانی جھنڈے اور امریکہ و اسرائیل کے ابتدائی حملے میں ہلاک ہونے والے علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
کئی ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ٹیلی فون کے ذریعے رسائی رکھنے والے ایرانیوں کی رائے نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے تقسیم ہے۔
حامی ان کے انتخاب کو سراہ رہے ہیں جبکہ مخالفین کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی تبدیلی کی امیدیں ختم ہو جائیں گی۔
تہران سے تعلق رکھنے والی 21 برس کی طالبہ علم زہرہ میرباقری کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو یہ سوچتے تھے کہ ان کے والد کے قتل سے سارا نظام ٹوٹ جائے گا۔ ان کی پیروی جاری رہے گی۔‘
بہت سے ایرانیوں نے شروع میں خامنہ ای کی موت کا جشن منایا تھا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے بدترین تشدد سے ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین کو ہلاک کر دیا تھا جو کہ 1979 کے انقلاب کے بعد سے بدترین تشدد تھا۔ اس کے بعد حکومت مخالف سرگرمیاں بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔