Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں دستخط ہوں گے: پاکستان

دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام جیسے اہم ایشوز پر بعد میں بات چیت کی توقع ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک معاہدہ کر لیا ہے جس سے بین الاقوامی معیشت کو ریلیف ملے گا۔
عرب نیوز کے مطابق اس معاہدے کا اعلان جنگ شروع ہونے کے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد کیا گیا ہے۔
اس معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تاہم اہم ثالث ملک پاکستان کا کہنا ہے کہ ’معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ 19 جون کو سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے۔‘
ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم ایشوز پر بعد میں بات چیت کیے جانے کی توقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اتوار کو لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود طے پایا ہے جس پر ایران اور امریکی صدر ٹرمپ دونوں نے تنقید کی تھی۔
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’سب کو مبارک ہو! میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر’ٹول فری‘ کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں اور اسی وقت امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی بھی اجازت دیتا ہوں۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’دنیا بھر کے جہاز اپنے انجن سٹارٹ کر دیں اور تیل کی فراہمی جاری رہنے دو۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیان شب اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ 

شہباز شریف نے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا کہ ’طویل اور نتیجہ خیز بات چیت کے بعد یہ اعلان کرکے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔‘
معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
انہوں نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’ہم تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ثالثی کی کوشش میں اپنے برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں سپورٹ کی۔ میں خاص طور پر سعودی عرب اور ترکیہ کی دور اندیش قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے امن کوششوں میں موثر کردار ادا کیا۔‘
اب جبکہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔ ثالث ممالک، اس ہفتے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کا انعقاد کریں گے۔ ان ابتدائی مذاکرات کے ذریعے تیکنیکی مذاکرات اور باضابطہ دستخط کی تقریب کی بنیاد فراہم کی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ طے پا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایران کی بھی معاہدے کی تصدیق
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اس معاہدے کی تصدیق کی تاہم کہا کہ ایران جمعے کو معاہدے پر دستخط سے پہلے اس پر عملدرآمد شروع نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہ معاہدہ قطر جو ایک ثالت ہے، کے ایک نمائندے کے ساتھ تہران میں 14 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف  بحری ناکہ بندی بھی آج رات ختم کر دی جائے گی۔

آبنائے یرمز کی بندش کی وجہ سے بہت سے بحری جہاز پھنس گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے نشریات کے دوران ایک بینر بھی دکھایا جس پر لکھا تھا امریکہ کو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔
اس سے قبل ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا تھا کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی خواہش نہیں رکھتا یا اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’اگر آپ کے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کی نہ خواہش ہے اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

شیئر: