ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ پر اب تک قریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ جنگ ’پینٹاگون‘ کے ایک عہدے دار نے حکومت کی جانب سے پہلی بار اس جنگ کے اخراجات کی تفصیل بتائی ہے۔
وسط مدتی انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت معرکہ درپیش ہے۔
امریکہ میں سامنے آنے والے رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق ایران کی غیرمقبول جنگ کی وجہ سے اس وقت ڈیموکریٹس، ریپبلکنز سے آگے ہیں۔
محکمہ جنگ میں کمپٹرولر کے فرائض انجام دینے والے جولز ہرسٹ نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے قانون سازوں کو بتایا کہ ’اس رقم کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود اور جنگی آلات کے لیے مختص کیا گیا۔‘
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس رقم سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو اور مُرمت کے لیے بھی پیسے خرچ کیے جائیں گے۔
اس جنگ میں اب تک امریکہ کے 13 فوجی ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے امریکہ میں پیٹرول اور کھاد جیسی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، امریکہ اور ایران کے درمیان تاحال ایک ’نازک‘ جنگ بندی برقرار ہے۔
جنگ کا آغاز ہونے کے بعد پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنے ہزاروں فوجی بھیج چکا ہے، اس کے علاوہ امریکہ کے تین بحری بیڑے بھی خطے میں موجود ہیں۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی اس جنگ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اپریل کے وسط میں 36 فیصد افراد اس جنگ کے حامی تھے۔