Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو مفلوج کر رہا ہے: وزیر خزانہ

ہفتے کے روز بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ’آزادانہ جہاز رانی‘ کی بحالی تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ ایران کی قیادت کا ’معاشی ناکہ بندیکے ذریعے دم گھونٹ رہا ہے جو امریکی فوجی کارروائی کے ساتھ شروع کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیرخزانہ نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی گذشتہ مارچ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کے حکم سے شروع ہوئی، اور تین ہفتے قبل انہیں ’اکنامک فیوری کے نام سے ایک نئی مہم شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے کہا: ’ہم اس نظام کو گھٹن میں لا رہے ہیں، اور وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہے۔ یہ ایک حقیقی معاشی ناکہ بندی ہے، اور حکومت کے ہر شعبے میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔‘
ایران اور امریکہ دونوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو خلیج سے توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے زیادہ تر جہاز رانی کو روک دیا ہے، جبکہ امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے تمام جہازوں کو روک رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے دوران مذاکرات بھی جاری ہیں۔
بیسنٹ نے کہا کہ ان کا محکمہ ہر اُس فرد یا ادارے کے خلاف معاشی اقدامات کر رہا ہے جو ایران کی پاسدارانِ انقلاب  کو مالی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ادارہ بدعنوان ہے اور برسوں سے ایرانی عوام کا پیسہ لوٹ رہا ہے، اور مزید کہا کہ امریکہ ان کے بیرونِ ملک اثاثوں کا سراغ لگا کر انہیں محفوظ کرے گا تاکہ مستقبل میں ایرانی عوام کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ہفتے کے روز بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ’آزادانہ جہاز رانی‘ کی بحالی تک ناکہ بندی جاری رہے گی، اور دعویٰ کیا کہ ایران میں خوراک اور پٹرول کی راشن بندی بھی نافذ ہو چکی ہے۔
ادھر نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے بھی کہا کہ ایران کی معیشت شدید بحران کے دہانے پر ہے، جہاں افراطِ زر بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور خوراک کی قلت کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

شیئر: