کیا پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ انڈین ’دھورندر‘ کا جواب ہے؟
کیا پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ انڈین ’دھورندر‘ کا جواب ہے؟
پیر 4 مئی 2026 8:00
لالی وڈ فلم ’میرا لیاری‘ کی ریلیز آٹھ مئی کو متوقع ہے (فوٹو: لالی وڈ پکچرز)
آنے والی پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ کا نام سامنے آتے ہی خیال ظاہر کیا جانے لگا کہ یہ بالی وڈ فلم ’دھورندر‘ کا جواب ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں بھی کراچی کے علاقے لیاری کو دکھایا گیا۔
کیا واقعی ایسا ہے؟ اس کا جواب کسی اور نے نہیں بلکہ ’میرا لیاری‘ میں اہم کردار ادا کرنے والی دو اداکاراؤں عائشہ عمر اور دنانیر مبین نے دیا ہے۔
عائشہ عمر سے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران اس حوالے سے سوال پوچھا گیا جبکہ دنانیر مبین سے لندن میں ایک ایونٹ کے موقع پر بھی کچھ ایسا سوال ہوا۔
ان دونوں جوابات میں اس تاثر کی نفی کی گئی ہے کہ ’میرا لیاری‘ کا فلم ’دھورندر‘ سے کوئی نکلتا ہے۔
گیلیکسی لالی وڈ نام کے اکاؤنٹ سے عائشہ عمر کے ایک پاڈ کاسٹ کا کلپ شیئر کیا گیا جس میں وہ کہتی ہیں کہ جب دھورندر فلم ریلیز ہوئی اس سے بہت پہلے ’میرا لیاری‘ شوٹ ہو چکی تھی اس لیے اسے ’جوابی فلم‘ قرار دینا درست نہیں۔
ان کے مطابق ’دھورندر ایک پراپیگنڈہ فلم ہے جس میں ایک جھوٹے بیانیے کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
انہوں نے پاکستانی فلم کے بارے میں بتایا کہ اس میں کوئی جھوٹا بیانیہ شامل نہیں، وہاں کے حقیقی مسائل کو دکھایا گیا ہے۔‘
اسی طرح جب یہی سوال دنانیر میبن سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کو دھورندر جیسی فلم کے جواب سے جوڑنا زیادتی ہے۔
دنانیر نے کہا کہ ’اس فلم کا مرکزی خیال بہت سپیشل ہے اس میں لیاری کی حقیقی منظرکشی کی گئی جس میں فٹ بال کلچر اور دوسرے پہلو شامل ہیں۔‘
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم کو اپنی شناخت کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے، اس میں ایک علاقے کے حوالے سے کام کیا گیا ہے اور وہاں کا ٹینلٹ نمایاں دکھایا گیا ہے۔
دنانیر کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی فلموں میں نئے موضوعات پر کام ہو رہا ہے اور ان میں کھیلوں اور خواتین کے کرداروں کے علاوہ علاقائی کلچر پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
عائشہ عمر کے مطابق ’فلم ’میرا لیاری‘ میں کوئی جھوٹا بیانیہ شامل نہیں بلکہ حقیقی ایشوز کو دکھایا گیا ہے‘ (فوٹو: انسٹاگرام، عائشہ عمر)
انہوں نے کہا کہ ’میرا لیاری کا دھورندر سے موازنہ کرنے کے بجائے اس کو انفرادی حیثیت میں دیکھنا اور سمجھنا چاہیے۔
میرا لیاری فلم کا پریمیئر دو مئی کو ہوا تھا جبکہ اس کی ریلیز آٹھ مئی 2026 کو متوقع ہے۔
اس میں ینگ ٹیلنٹ، خواتین فٹ بالرز اور مقامی ثقافت کو دکھایا گیا ہے۔
اس فلم کو وقار حسن رضوی اور ثانیہ سہیل نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ ہدایت کار ابوعلیحہ ہیں، اداکارہ عائشہ عمر اس کی ایگزیکٹیو پروڈیوسر بھی ہیں۔
اس کاسٹ میں عائشہ عمر اور دنانیر مبین کے علاوہ نیر اعجاز، سامعہ ممتاز اور عدنان شاہ ٹیپو شامل ہیں۔