Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کے پاس دو ہی راستے رہ گئے ہیں: ’ناممکن‘ فوجی کارروائی یا پھر ایک ’برا معاہدہ‘: پاسداران انقلاب

ایران نے ثالث پاکستان کو مذاکرات کے لیے 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ کے پاس دو ہی راستے ہیں: وہ یا تو ایک ’ناممکن‘ فوجی کارروائی یا پھر اسلامی جمہوریہ کے ساتھ ایک ’برا معاہدہ‘کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے بیان میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ایک ناممکن آپریشن اور ایران کے ساتھ ایک خراب معاہدے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
بیان میں چین، روس اور یورپ کی جانب سے امریکہ کے لیے لہجے میں تبدیلی کا حوالہ دیا گیا، ساتھ ہی ایران کی طرف سے امریکی بحری ناکہ بندی کے حوالے سے دی گئی ’ڈیڈ لائن‘ کا بھی ذکر کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی امن تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے امکانات پر شبہات کا اظہار کیا اور مستقبل میں ایران پر حملوں کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 8 اپریل کو جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں، جبکہ دو ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرحلہ وار امن مذاکرات پاکستان میں ناکام ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مستقبل میں ایران پر حملوں کے امکان کو رَد نہیں کیا (فوٹو: اے ایف پی)

یہ مایوس کن صورتِ حال اس وقت سامنے آئی جب ایران کی خبر رساں ایجنسیوں تسنیم اور فارس نے رپورٹ کیا کہ تہران نے ثالث اسلام آباد کو 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے۔ تسنیم کے مطابق اس میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا فریم ورک شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ‘میں جلد ایران کی جانب سے بھیجی گئی تجویز کا جائزہ لوں گا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ قابل قبول ہوگی، کیونکہ گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا، اس کی ابھی تک کوئی بڑی قیمت ادا نہیں کی گئی۔‘
فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کن حالات میں ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ اگر بدسلوکی کریں، یا کوئی غلط کام کریں تو، لیکن فی الحال دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ امکان موجود ضرور ہے۔‘

صدر ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایرانی فوج کی مرکزی کمان کے ایک اعلیٰ عہدیدار محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے۔‘
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں ہے۔‘
نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں سفارت کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی جاری رکھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران ’دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔‘
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ہفتے کے آغاز میں رپورٹ کیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکہ کے وسیع جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز واشنگٹن پر ’منافقت‘ کا الزام عائد کیا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھا ہوا ہے (فوٹو: روئٹرز)

بیان میں کہا گیا کہ یورینیم کی افزودگی کی سطح پر کوئی قانونی پابندی نہیں، بشرطیکہ یہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں ہو، جیسا کہ ایران کے معاملے میں تھا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھا ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت کو تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر جوابی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے نائب سپیکر علی نکزاد نے کہا کہ زیر غور قانون کے تحت آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والے 30 فیصد محصولات فوجی ڈھانچے پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم ’اقتصادی ترقی‘ کے لیے مختص ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کا انتظام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔‘
دوسری جانب ہفتے کے روز لبنان میں لڑائی جاری رہی، جہاں اسرائیل نے ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے ساتھ علیحدہ جنگ بندی کے باوجود مہلک حملے کیے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ نو دیہات کے لیے انخلا کی وارننگ بھی جاری کی گئی۔

ایرانی تیل کی برآمدات کم ہو گئی ہیں اور مہنگائی 50 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے (فوٹو: اے پی)

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد حملوں کا دعویٰ کیا۔
ان حملوں میں یارون گاؤں میں ایک مذہبی عمارت بھی نشانہ بنی، جسے اسرائیلی فوج نے ’مذہبی عمارت‘ قرار دیا۔
فرانسیسی کیتھولک تنظیم ’لوور دی اوریاں‘ نے کہا کہ فوجیوں نے ایک کانوینٹ کو تباہ کر دیا، جو سالویٹورین سسٹرز نامی یونانی کیتھولک مذہبی تنظیم سے تعلق رکھتا تھا۔
امریکہ میں قانون ساز اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ نے جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری لینے کی ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نے 60 دن کی مدت کو روک دیا تھا، جس کے بعد کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی، تاہم اپوزیشن ڈیموکریٹس اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔
ایران میں جنگ کے معاشی اثرات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جہاں تیل کی برآمدات کم ہو گئی ہیں اور مہنگائی 50 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تہران کے 40 سالہ رہائشی امیر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر کوئی موجودہ حالات برداشت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایسا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ابھی تک معاشی اثرات پوری طرح نہیں دیکھے کیونکہ لوگوں کے پاس کچھ بچت تھی، کچھ سونا اور ڈالر تھے۔ جب یہ ختم ہو جائیں گے تو حالات بدل جائیں گے۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے نئی تجاویز پر مشتمل مسودہ جمعرات کی شام ثالث پاکستان کے حوالے کیا تھا تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔
خیال رہے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ تقریباً پانچ ہفتے بعد اس جنگ بندی تک پہنچی تھی جس کے لیے پاکستان نے کردار ادا کیا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہوا جو کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا، اس کے بعد دوسرا دور بھی طے ہوا تھا تاہم وہ منعقد نہیں ہو سکا۔
اس وقت ایک طرف آبنائے ہرمز کی بندش جاری ہے تو دوسری جانب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے عالمی طور پر تیل کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔

https://www.youtube.com/@UrduNewsCom

شیئر: