Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کے قریب بلک کیریئر پر حملہ، ایران کی نئی امن تجویز بھی سامنے آگئی

حالیہ حملہ ایران کے شہر سیرک کے قریب آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہوا (فوٹو: روئٹرز)
آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری مال بردار جہاز پر متعدد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کی اطلاع ملی ہے۔ برطانوی فوج کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر نے اتوار کے روز بتایا کہ یہ واقعہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں ہونے والے کم از کم دو درجن حملوں میں سے تازہ ترین ہے۔
نگرانی کرنے والے ادارے کے مطابق نامعلوم شمال کی سمت جانے والے اس مال بردار جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا۔ یہ حملہ ایران کے شہر سیرک کے قریب آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہوا۔
ایرانی حکام پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ اس آبنائے پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں اور امریکہ یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہازوں کے علاوہ تمام جہاز فیس ادا کر کے گزر سکتے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی، اور یہ اس علاقے میں 22 اپریل کے بعد پہلا واقعہ ہے جب ایک کارگو جہاز پر فائرنگ کی اطلاع ملی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں خطرے کی سطح اب بھی غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔ ایران نے حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو عملاً  بند کر رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تین ہفتوں کی نازک جنگ بندی بظاہر برقرار ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزید حملوں کا امکان موجود ہے۔
ایران کی امریکہ کو نئی تجویز
ایران کے سرکاری میڈیا سے منسلک ذرائع کے مطابق ایران نے امریکہ کو نئی تجویز دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل 30 دن کے اندر حل کیے جائیں اور مقصد صرف جنگ بندی کو طول دینا نہیں بلکہ جنگ ختم کرنا ہو۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ اس تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن انہوں نے ان شبہات کا اظہار بھی کیا کہ یہ تجویز کسی معاہدے تک پہنچے گی یا نہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’انہوں نے ابھی تک انسانیت اور دنیا کے خلاف پچھلے 47 سال میں کیے گئے اقدامات کی مناسب قیمت ادا نہیں کی۔‘
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں اداروں نور نیوز اور تسنیم نے کہا ہے کہ ایران کی 14 نکاتی تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، خطے سے اپنی افواج واپس بلائے اور ہر طرح کی جارحیت ختم کرے، جس میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
تاہم ان رپورٹس میں ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جو امریکہ کے ساتھ کشیدگی کا بنیادی مسئلہ رہا ہے۔
ایران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا، جہاں گزشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی تیل کی ذخیرہ گاہیں تیزی سے بھر رہی ہیں (فوٹو: مہر نیوز ایجنسی)

پاکستانی حکام کے مطابق وزیراعظم، وزیر خارجہ اور آرمی چیف دونوں ممالک کو براہِ راست بات چیت کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اسی روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی بات کی، جنہوں نے جنگ سے پہلے مذاکرات کے پچھلے ادوار کی نگرانی کی تھی۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر مؤقف
صدر ٹرمپ نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جہاں سے دنیا کے مجموعی تیل اور گیس کے پانچویں حصے کی تجارت ہوتی ہے۔
ایرانی پارلیمان کے نائب اسپیکر نے اتوار کے روز کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور آبنائے ہرمز پہلے جیسی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔ انہوں نے یہ بات سٹریٹجک لراک جزیرے پر بندرگاہ کی تنصیبات کے دورے کے دوران کہی۔
امریکہ نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگر ایران کو کسی بھی شکل میں، بشمول ڈیجیٹل اثاثوں کے، ادائیگی کریں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب 13 اپریل سے امریکی بحری ناکہ بندی ایران کو تیل کی آمدنی سے محروم کر رہی ہے، جو اس کی کمزور معیشت کے لیے اہم ہے۔

ایران نے حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو عملاً  بند کر رکھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کو اب تک بہت کم آمدنی حاصل ہوئی ہے اور اس کی تیل کی ذخیرہ گاہیں تیزی سے بھر رہی ہیں، جس کے باعث ممکن ہے کہ اسے جلد پیداوار روکنی پڑے۔
ایرانی کرنسی میں مزید گراوٹ
اتوار کو ایران میں کام کے ہفتے کے دوسرے دن ایرانی ریال مزید کمزور ہو گیا۔ تہران کی فردوسی سٹریٹ پر امریکی ڈالر 18 لاکھ 40 ہزار ریال پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق کرنسی میں مزید کمی کا امکان ہے۔
دسمبر میں ریال 13 لاکھ فی ڈالر پر تھا، جو اس وقت ایک ریکارڈ کم سطح تھی جس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے خلاف عوامی احتجاج شروع ہوا تھا۔ ایران کی منڈیوں میں صورتِ حال اب بھی غیر مستحکم ہے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں۔

تہران کی فردوسی سٹریٹ پر امریکی ڈالر 18 لاکھ 40 ہزار ریال پر ٹریڈ کر رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)

ایرانی میڈیا کے مطابق مارچ میں نئے سال کے بعد کئی فیکٹریوں نے مزدوروں کے ساتھ معاہدوں کی تجدید نہیں کی، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے اور مشیر یوسف پزشکیان نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ امریکہ اور ایران دونوں خود کو جنگ کا فاتح سمجھتے ہیں اور کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔؂

شیئر: