تھائی لینڈ میں لیاری اور لیہہ میں بلوچستان: فلم ’دھورندھر‘ کی شوٹنگ کٹھن مراحل کا تھے؟
تھائی لینڈ میں لیاری اور لیہہ میں بلوچستان: فلم ’دھورندھر‘ کی شوٹنگ کٹھن مراحل کا تھے؟
جمعرات 30 اپریل 2026 18:21
فلم کا ایک اہم حصہ کارگل میں عکس بند ہونا تھا لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجازت نہ ملی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
آدتیہ دھر کی فلم ’دھرندھر‘ نے باکس آفس پر کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ کر بالی وُڈ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ تاہم اس میگا ہٹ فلم کے پیچھے چھپی محنت اور اداکاروں کو درپیش مشکلات کی کہانیاں اب منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔
انڈین ایکسپرپس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران فلم کے اداکاروں وکرم بھمبری، ہیرو مہتا اور رجت اروڑا نے انکشاف کیا کہ اس بلاک بسٹر کی عکس بندی کے دوران انہیں صحت کے شدید مسائل اور جغرافیائی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
فلم میں دکھائے گئے کراچی کے علاقے لیاری کے مناظر کے حوالے سے رجت اروڑا نے بتایا کہ حقیقت میں لیاری کا پورا سیٹ تھائی لینڈ میں لگایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سیٹ کے لیے ’چھ ایکڑ پر محیط اس وسیع سیٹ کو دیکھ کر ایسا گمان ہوتا تھا کہ وہ واقعی پاکستان میں موجود ہیں۔
اگرچہ کچھ مناظر امرتسر اور چندی گڑھ میں بھی فلمائے گئے لیکن لیاری کا زیادہ تر حصہ تھائی لینڈ کی بارشوں اور کٹھن موسم میں شوٹ کیا گیا۔‘
دوسری جانب فلم کا ایک اہم حصہ کارگل میں عکس بند ہونا تھا لیکن پہلگام حملوں کے باعث سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجازت نہ ملی اور پورے شیڈول کو لیہہ لداخ منتقل کر دیا گیا۔
اداکاروں کا کہنا تھا کہ کارگل جانا ہر انڈین کا خواب ہے، اس لیے وہاں نہ جا پانے کا انہیں دکھ ہوا۔
فلم میں دکھائے گئے کراچی کے علاقے لیاری کے مناظر کا پورا سیٹ تھائی لینڈ میں لگایا گیا تھا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
لیہہ میں شوٹنگ کے دوران آکسیجن کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری۔ ہیرو مہتا کے مطابق بلندی پر آکسیجن کی سطح گرنے سے عملے کے کئی ارکان کی طبیعت بگڑ گئی، سر درد اور متلی کی شکایت عام تھی جس کے لیے پروڈکشن ہاؤس نے ڈاکٹرز اور ایمبولینسز کا مستقل انتظام کر رکھا تھا۔
ایک حیران کن انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ شوٹنگ کے دوران ’برڈ فلو‘ کی وجہ سے لگ بھگ 200 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو کر بیمار پڑ گئے۔
آلودہ گوشت کے باعث پروڈکشن ٹیم کے ارکان کی حالت اس قدر خراب ہوئی کہ شوٹنگ روکنی پڑی۔
رنویر سنگھ کی اس فلم نے مجموعی طور پر تین ہزار کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہدایت کار آدتیہ دھر نے قریباً 300 گھنٹوں کی فوٹیج ریکارڈ کی تھی جسے تراش کر پہلے 17 گھنٹے اور پھر فائنل کٹ میں سات گھنٹے تک لایا گیا۔
دو برس کی طویل محنت اور سخت ورکشاپس کے بعد بننے والی اس فلم نے ثابت کر دیا کہ بڑے پردے کا جادو جگانے کے لیے کیمرے کے پیچھے کتنی بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔