غالباً منگل کا دن تھا۔ دوپہر ہونے سے پہلے لاہور کے علاقے گلبرگ میں قائم ایک این جی او کی معروف شخصیت کوٹ لکھپت جیل جا پہنچیں۔ یہ محترمہ ایک اہم ترین لیگی رہنما کی عزیزہ ہیں۔ یہ رہنما سرکار میں اہم قومی عہدے پر فائز ہیں۔ ظاہر ہے لاہور سے تعلق رکھتے ہیں، دیرینہ لیگی ہیں، میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے معتمدین میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کی عزیزہ اپنے ادارے کی جانب سے عید کی آمد سے قبل جیل میں قید خواتین کے لیے تحائف لے کر گئیں۔ یہ خواتین اور بچیوں کے حقوق کے لیے عرصۂ دراز سے کام کر رہی ہیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں داخل ہوتے ہی ان کی ملاقات ایک پرانی جان پہچان والی سیاسی رہنما، یعنی ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو دہائیوں سے جانتی ہیں۔ یہاں پی ٹی آئی کی دیگر خواتین بھی جیل میں ہیں، لیکن ڈاکٹر یاسمین راشد کو دیکھتے ہی محترمہ انہی کے پاس رک گئیں۔ حال احوال اور پرانی رفاقتوں کا ذکر ختم ہوا تو گفتگو اچانک موجودہ ملکی سیاسی منظرنامے کی جانب مڑ گئی۔
مزید پڑھیں
-
عمران خان کی عید پر بیٹوں سے فون پر بات کروائی جائے گی: عطا تارڑNode ID: 901961
’بس کریں، اور کتنا جیل میں رکھنا ہے آپ نے؟‘ یاسمین راشد گویا ہوئیں۔
’خان سے معاملات طے کرنے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟ کب تک یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا؟‘
’بہنوں کو اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت لے کر دیں۔ اور کچھ نہیں، کم از کم ملاقاتوں پر پابندیاں تو ہٹوائیں۔‘
محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو سن رہی تھیں کہ ڈاکٹر صاحبہ مزید بات آگے بڑھاتے ہوئے بولیں کہ ’یہ میرا پیغام اپنے بھائی اور بالخصوص میاں نواز شریف تک ضرور پہنچائیں، اور وہ بھی میرے نام کے ساتھ۔‘

یہ سنتے ہی محترمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ خاکسار کے سورس کے مطابق اس موقع پر دونوں خواتین، دیرینہ تعلق اور جان پہچان کے باعث، ایک دوسرے کے ساتھ خاصی گرمجوشی سے گفتگو کرتی رہیں اور مذکورہ مدعے پر تقریباً اتفاقِ رائے محسوس کیا گیا۔
یہاں ڈاکٹر یاسمین راشد نے میاں نواز شریف کے علاج معالجے اور ان کے ذاتی کردار کا ذکر بھی کیا کہ درحقیقت ان دنوں ابتدائی طور پر میاں صاحب کو انجائنا کا اٹیک ہوا تھا، اور انہوں نے کپتان سرکار کے ساتھ اس مدعے کو کیسے اٹھایا۔ پلیٹلیٹس گرنے سے لے کر علاج معالجے تک بطور وزیرِ صحت پنجاب اس معاملے کو کیسے ہینڈل کیا۔ میاں صاحب کے ذاتی معالج کی رسائی کے لیے عمران خان کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کی اور انہیں قائل کیا۔
اسی موقع کا حوالہ دیتے ہوئے یاسمین راشد کا اصرار تھا کہ اب آپ کی سرکار ہے اور خان جیل میں ہیں، انہیں علاج معالجے اور ذاتی معالج تک رسائی کی ضرورت ہے۔ وقت ہے کہ آپ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس بارے میں عملی طور پر کوشش کریں۔
محترمہ نے پھر اثبات میں سر ہلایا تو ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگیں: ’تُسی جیل توں کج نئی سکھنا؟‘ اور یوں یہ سنجیدہ گفتگو قہقہے پر ختم ہوئی۔
روداد سنی تو معلوم ہوا کہ تحائف لانے والی معزز شخصیت نے ڈاکٹر صاحبہ کے کتھارسس کو سنجیدگی سے لیا اور عہد کیا کہ وہ یہ پیغام بالخصوص میاں صاحب تک ضرور پہنچائیں گی۔ عجب بات یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے کسی کیس یا اپنی جیل یاترا کے بارے میں کوئی خاص گلہ شکوہ یا مطالبہ نہ کیا بلکہ ان کا فوکس موجودہ سیاسی منظرنامے اور ممکنہ حل پر رہا۔

اپنی خیریت کا ذکر آیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بچپن سے سلائی کڑھائی کا کام جانتی ہیں، لہٰذا جیل میں اکثر یہ مشغلہ جاری رہتا ہے۔ کچھ نمونے بھی تحائف لانے والی خاتون کو بطورِ جوابی تحفہ پیش کیے گئے۔
خاکسار نے ذریعے سے استفسار کیا کہ وہاں کوٹ لکھپت جیل میں دیگر سیاسی خواتین بھی موجود ہیں، ان سے کیسا معاملہ رہا؟ اطلاع ملی کہ جی ہاں، وہاں صنم جاوید بھی ہیں، لیکن مہمان شخصیت نہ انہیں جانتی ہیں اور نہ صنم انہیں جانتی ہیں۔ ان کی جان پہچان ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ تھی اور وہیں تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات ختم ہو رہی تھی تو یاسمین راشد ایک بار پھر گویا ہوئیں۔ کہنے لگیں: ’جے ہمت نئی ہو رہی تے مینوں موقع دیو۔‘ یعنی اگر اس اہم مدعے پر اعلیٰ قیادت سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تو آپ مجھے جانتی ہی ہیں، مجھے موقع دیں، میں یہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
ایران، اسرائیل اور امریکی جنگ کی وجہ سے سیاسی منظرنامہ فطری طور پر قدرے ثانوی ہیڈ لائن بن جاتا ہے، لیکن اس بیچ یہ اہم ترین ملاقات بہرحال اپنی جگہ ایک قابلِ غور پیشرفت قرار دی جا سکتی ہے۔ اس ملاقات سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوتا ہے، اور وہ ہے سیاسی جان پہچان اور تعلق واسطے کا برقرار رہنا۔
المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں دستیاب قیادت کو دیکھا جائے تو اکثریت اس صلاحیت سے عاری نظر آتی ہے۔ بات چیت ہمیشہ تعلقاتِ کار کی وجہ سے ہی شروع ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر کوئی راستہ نکلتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سیاسی منظرنامے کی اصلاح کے لیے جو لوگ کارآمد ہو سکتے ہیں، وہ یا تو جیل میں ہیں یا سیاست میں نہیں رہے۔
شاہ محمود اور ڈاکٹر یاسمین راشد کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔ ان دونوں کے ذریعے بہرحال آغاز ہو سکتا ہے۔
کیا میاں نواز شریف، جو عام انتخابات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کے مدمقابل تھے، ان کے نام جاری ذاتی پیغام پر غور کریں گے؟ عید گزرنے کا انتظار فرمائیں۔












