خلیجی ممالک، یورپ اور شمالی امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی ہر سال عید کے موقعے پر اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ مگر اس برس بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ خواہش پوری کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
اس کی وجہ مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال کے باعث ایئر لائنز کے محدود آپریشنز اور عید سے قبل ہوائی ٹکٹوں کی غیر معمولی حد تک بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جنہوں نے ہزاروں خاندانوں کو ایک اور عید اہل خانہ سے دور گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ جیسے مذہبی تہوار پاکستانی معاشرے میں خاندانی میل جول، روایتی کھانوں اور مشترکہ خوشیوں کا موقع سمجھے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر21 مارچ کو ہو گیNode ID: 902006
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ مواقع اور بھی اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ سال بھر اپنے پیاروں سے دور رہتے ہیں تاہم اس سال صورتحال کچھ مختلف ہے۔
ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
قطر، عمان، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ عید سے چند ہفتے قبل ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی بلکہ بعض صورتوں میں تین گنا تک بڑھ گئی ہیں۔
دوحہ میں مقیم خالد اقبال جو پچھلے سات برس سے ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ہر سال عید پر لاہور جاتے ہیں لیکن اس بار جب انہوں نے ٹکٹوں کی قیمت دیکھی تو حیران رہ گئے۔ عام دنوں میں جو ٹکٹ 900 سے 1200 درہم میں مل جاتا ہے وہ اس وقت 24 سے 25 سو درہم سے بھی اوپر چلا گیا۔ ان کے لیے اتنی رقم خرچ کرنا ممکن نہیں۔
خالد اقبال کے مطابق ان کی دو چھوٹی بیٹیاں لاہور میں اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتی ہیں اور وہ عید پر اپنے والد کا شدت سے انتظار کرتی تھیں۔
’میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس بار شاید میں نہ آ سکوں مگر بچوں کو یہ بات سمجھانا بہت مشکل ہے۔‘
اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد متاثر
پاکستان بیورو آف امیگریشن کے اندازوں کے مطابق قریباً 80 لاکھ سے زائد پاکستانی مختلف ممالک میں کام یا تعلیم کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد خلیجی ممالک میں ہے جہاں سے پاکستان کے لیے پروازوں کی طلب عید سے قبل بڑھ جاتی ہے۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق یہی طلب قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنتی ہے۔
کراچی میں ایک ٹریول ایجنسی کے مالک ندیم شریف کہتے ہیں کہ عید کے قریب عام طور پر نشستوں کی مانگ بہت زیادہ ہو جاتی ہے لیکن اس بار مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث محدود ایئر لائنز ہونے کی وجہ سے مسافروں کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

’جب ہزاروں لوگ ایک ہی وقت میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو ایئرلائنز کرایے بڑھا دیتی ہیں۔ اس سال کچھ روٹس پر نشستیں پہلے ہی کم تھیں جس کی وجہ سے قیمتیں اور زیادہ بڑھ گئیں۔‘
ان کے مطابق دبئی، شارجہ اور دوحہ، سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں بعض دنوں میں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
کم آمدن والے مزدور سب سے زیادہ متاثر
مہنگے ٹکٹوں کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے پاکستانی مزدوروں پر پڑا ہے۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی مزدور محدود تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں اور سال میں صرف ایک بار ہی وطن جانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
عجمان میں کام کرنے والے محنت کش غلام شبیر کہتے ہیں کہ وہ پچھلے دو سال سے اپنے گاؤں نہیں جا سکے۔
’میں ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم بچاتا ہوں تاکہ عید پر گھر جا سکوں۔ لیکن جب ٹکٹ کی قیمت ہی آدھی تنخواہ سے زیادہ ہو جائے تو پھر کیسے جائیں؟ اس بار بھی شاید ویڈیو کال پر ہی عید منانی پڑے گی۔‘
ان کے مطابق ان کے والدین کی عمر بڑھ رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم عید جیسے موقع پر ان کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
طلب اور رسد کا مسئلہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے محدود پروازوں کی وجہ سے پہلے ہی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہے۔ کئی ممالک کی پروازیں روٹ سے ہٹ کر لمبے روٹس پر آپریٹ ہورہی ہیں۔
اس کے علاوہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ اور عید کے موقعے پر مسافروں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم پاکستان کے معاملے میں بعض اضافی عوامل بھی شامل ہیں۔
ایوی ایشن کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے کئی ہوائی اڈوں سے بین الاقوامی پروازوں کی تعداد محدود ہے جبکہ مسافروں کی طلب زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی قیمتیں، ٹیکسز اور دیگر اخراجات بھی کرایوں کو متاثر کرتے ہیں۔
سینیئر صحافی طارق راجہ کامران کے مطابق ’اگر کسی روٹ پر پانچ پروازیں ہوں اور اچانک دس ہزار مسافر سفر کرنا چاہیں تو قیمتیں لازمی بڑھیں گی۔ حل یہی ہے کہ یا تو پروازوں کے بحال ہونے کا انتظار کیا جائے یا پھر اس بار عید اپنے پیاروں کے بغیر کی منائی جائے۔‘
مہنگے ٹکٹ صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے جذباتی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ عید جیسے تہوار پر خاندان کا اکٹھا ہونا پاکستانی ثقافت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
کراچی کی رہائشی سلطانہ اعظم بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا قطر میں ملازمت کرتا ہے اور پچھلے دو برسوں سے عید پر گھر آتا رہا ہے۔ مگر اس مرتبہ وہ نہیں آ سکے گا۔
’ہم نے ہر سال اس کے آنے پر خاص تیاریاں کیں۔ گھر میں رونق ہو جاتی تھی۔ اس بار اس نے فون پر بتایا کہ ٹکٹ بہت مہنگا ہے۔ دل تو بہت دکھا مگر ہم نے اسے کہا کہ پیسے بچانا زیادہ ضروری ہے۔‘
سلطانہ اعظم کے مطابق اس مرتبہ عید کی خوشی ادھوری محسوس ہو رہی ہے۔

متبادل راستے اور مشکلات
کچھ پاکستانی کم قیمت کے لیے متبادل راستوں کا بھی انتخاب کرتے ہیں جیسے کسی دوسرے ملک کے ذریعے پاکستان آنا۔ تاہم اس طریقے میں سفر کا وقت زیادہ اور بعض اوقات ویزا یا ٹرانزٹ کی مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔
برطانیہ میں مقیم طالب علم سعد احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے سستا ٹکٹ تلاش کرنے کے لیے کئی دن مختلف ویب سائٹس دیکھیں۔
براہِ راست پرواز بہت مہنگی تھی۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ’اگر پہلے استنبول جائیں اور وہاں سے پاکستان کی فلائٹ لوں تو کچھ سستا پڑتا ہے لیکن اس میں سفر تقریباً دوگنا لمبا ہو جاتا ہے۔‘ بالآخر انہوں نے اس سال پاکستان نہ جانے کا فیصلہ کیا۔
ویڈیو کالز پر عید
بہت سے پاکستانیوں کے لیے اب ویڈیو کال ہی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔ واٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے لوگ اپنے خاندانوں سے رابطے میں رہتے ہیں مگر یہ رابطہ براہِ راست ملاقات کا متبادل نہیں بن پاتا۔
شارجہ میں مقیم عمامتا تسلیم کہتی ہیں کہ کچھ ماہ قبل ہی ان کی شادی ہوئی ہیں اور وہ اپنے شوہر کے ہمراہ شارجہ آئیں ہیں۔ اب پہلی عید آرہی اور ہم واپس پاکستان نہیں جا پارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب عید کی صبح ویڈیو کال کریں گی۔
’امی کہتی ہیں کہ بس تمہاری شکل دیکھ لیں تو دل کو تسلی ہو جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ گھر کی عید اور ہوتی ہے۔‘
دنیا کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے عید صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ اپنے وطن اور خاندان سے جڑنے کا موقع بھی ہوتی ہے۔ مگر جب سفر اتنا مہنگا ہو جائے کہ گھر جانا ممکن نہ رہے تو یہ خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔












