Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافہ، پاکستان میں عید کی رونقیں ماند پڑ گئیں

پاکستان خلیجی ممالک سے تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے، لیکن گزشتہ ماہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایندھن کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان  کے صوبہ پنجاب کی ایک بیوٹی سیلون میں رمضان کے اختتام کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، جہاں گاہک بال کٹوا رہے تھے، بھنویں بنوا رہے تھے اور مہندی کے ڈیزائن لگوا رہے تھے۔
دوسری جانب ملتان کی مارکیٹوں میں نوجوان اور بڑی عمر کی خواتین رنگ برنگی چوڑیاں، جوتے، نئے کپڑے، میک اپ اور مٹھائیاں خریدنے میں مصروف تھیں۔
لیکن ملتان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
میک اپ آرٹسٹ روزینہ امجد نے کہا کہ ’یہ سب کچھ بہت مختلف محسوس ہو رہا ہے کیونکہ جاری جنگ کی وجہ سے مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر غریب آدمی پریشان ہے۔ اس پر گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ چاند رات پہلے بہت رونق والی ہوا کرتی تھی۔ ’اب وہ کشش ختم ہو گئی ہے۔ اب ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا۔‘
پاکستان خلیجی ممالک سے تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے، لیکن گزشتہ ماہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایندھن کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی طور پر اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے مسلمانوں کے اہم ترین تہوار سے پہلے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے۔
35  سالہ گھریلو خاتون سوریہ مسلم نے بتایا کہ وہ اپنی خریداری پہلے ہی مکمل کر چکی ہیں اور اب صرف سیلون میں اپنی تیاری مکمل کر کے گھر میں مہمانوں کے استقبال کی تیاری کر رہی ہیں۔
لیکن انہیں خدشہ ہے کہ اس سال ان کے خاندان کو رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے جلنے کی روایتی سرگرمیوں میں کمی کرنی پڑے گی۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ لوگ بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں اور دیہات کی طرف جا رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ایران میں جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے نے ہمارے بجٹ کو بہت متاثر کیا ہے۔ عید کی تمام ضروری اشیاء بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔
’اب ہماری گاڑی گھر میں ہی کھڑی رہتی ہے۔ بجٹ کو دیکھتے ہوئے نہ ہم بچوں کو باہر لے جا سکتے ہیں، نہ خریداری کر سکتے ہیں اور نہ ہی رشتہ داروں سے مل سکتے ہیں۔‘
’اب لگتا ہے کہ پٹرول مزید مہنگا ہو جائے گا، اور اس صورتحال میں محسوس ہوتا ہے کہ عید ہمارے گھر تک ہی محدود رہ جائے گی۔‘
وزیراعظم شہباز شریف اس ہفتے کہا کہ خلیج کے بحران کے باعث آئندہ پیر کو یوم پاکستان پر نہ تو فوجی پریڈ ہوگی اور نہ فضائی مظاہرے۔
لاہور سے عید کے موقع پر گھروں کو واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جہاں ٹرینیں مسافروں سے بھری ہوئی ہیں اور لوگ رنگ برنگی بسوں کی چھتوں پر بھی سفر کر رہے ہیں۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی طور پر اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ لوگ بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں اور دیہات کی طرف جا رہے ہیں۔
لاہور میں 48 سالہ مزدور محمد رمضان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں عید اپنے بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا، لیکن وہ مجھ سے زیادہ مانگ رہے ہیں جتنا میں برداشت کر سکتا ہوں۔ اب تو مجھے اپنے بچوں کے پاس عید پر جانے کا بھی دل نہیں کر رہا۔‘
’میں سوچ رہا ہوں کہ یہیں رہ کر دوبارہ کام کروں۔ میری جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں۔‘

شیئر: