Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے ایران پر حملوں کی نئی لہر، بحران مزید گہرا ہو گیا

اسرائیل نے جمعے کو ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے جس سے جنگ کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ حملے صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو اس ہدایت کے ایک روز ہو رہے ہیں، جس میں اسے ایران کے قدرتی گیس کے ذرائع پر پھر حملے نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔
تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد سے جنگ جاری ہے اور اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ جنگ کا دائرہ پڑوسی ممالک تک بڑھنے کے علاوہ اسے عالمی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔
اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’آئی ڈی ایف نے تہران کے وسط قلب میں واقع ایران کی دہشت گرد حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔‘
تاہم ان کی جانب سے حملوں کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔  
بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات نے جمعے کی صبح کہا تھا کہ وہ میزائل حملوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا ہے۔
جمعرات کو توانائی کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ سامنے آیا جب ایران نے اسرائیل کے حملے کے جواب میں قطر کے لافان انڈسٹریل سٹی کو نشانہ بنایا جہاں دنیا بھر کی مائع گیس کا پانچواں حصہ پراسس ہوتا ہے اور اس کی مرمت میں برسوں لگیں گے۔
اسی طرح جمعرات کو ہی بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کی مرکزی بندرگاہ پر بھی حملہ کیا گیا جس کے ذریعے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد کسی حد تک برآمدات کے لیے متبادل راستہ تلاش کیا گیا تھا۔

جمعے کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر مزید ڈرون حملے ہوئے (فوٹو: عرب نیوز)

تاہم جمعے کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی سامنے آئی کیونکہ یورپی ممالک اور جاپان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد دینے کی پیشکش سامنے آئی جس کے ذریعے عالمی سطح پر پانچ فیصد تیل کی سپلائی ہوتی ہے جبکہ امریکہ نے تیل کی پیداوار بڑھانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔
خطے میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے جہاں ایران کی جانب سے مسلسل حملوں کی صلاحیت واضح ہوئی ہے وہیں خلیج کے سب سے قیمتی اور سٹریٹیجک توانائی کے ذرائع کے دفاع کی حدود کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس وقت صدر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے سیاسی طور پر کمزور پوزیشن میں ہیں۔
انہوں نے اپنے ان اتحادیوں پر تنقید کی ہے جنہوں نے ان کے مطالبات پر محتاط انداز میں جواب دیا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک سے آبنائے ہرمز کے تحفظ میں مدد دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران اب یورینیم کی افزودگی اور بیلسٹک بنانے کے قابل نہیں رہا (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کو بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کرنے سے روکا تھا۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں انہیں کہا ہے کہ ایسا نہ کریں اور اب وہ ایسا نہیں کریں گے۔‘
اس کے تھوڑی بعد نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل نے انفرادی طور پر جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا اور اس بات کی تصدیق بھی کی کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایسے حملے کرنے سے روکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اب اس کے پاس یورینیم کی افزودگی یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے تاہم ملک میں انقلاب کے لیے زمینی حصے کی ضرورت ہو گی۔‘
تاہم انہوں نے اس نکتے کی مزید وضاحت نہیں کی۔

 

شیئر: