ایک وقت تھا جب زندگی کی رفتار آج جتنی تیز نہیں تھی مگر اس میں ایک عجیب سی روانی تھی۔ شام ہوتے ہی گلیوں میں آوازیں گونجنے لگتیں، دکانوں کے شٹر آہستہ آہستہ اٹھتے اور ہر محلے کا اپنا ایک مزاج ہوتا۔ لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے، دکاندار گاہکوں کو نام سے پہچانتے تھے اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ایک تجربہ ہوتی تھیں، محض سہولت نہیں۔
پنجاب کے شہروں، خاص طور پر لاہور میں، گذشتہ 20 برسوں کے دوران زندگی کا یہ پورا منظرنامہ بدل گیا ہے۔ یہ تبدیلی شور کے ساتھ نہیں آئی، نہ کسی اعلان کے ساتھ، بلکہ یہ آہستہ آہستہ، خاموشی سے ہمارے درمیان سے گزرتی گئی اور اپنے پیچھے کئی ایسی چیزیں چھوڑ گئی جو کبھی ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھیں۔
مزید پڑھیں
-
عیدی کا مزا کرکرا، عوام کی بے چینی: نئے نوٹ کہاں ہیں؟Node ID: 901970
یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف اشیاء یا خدمات نہیں تھیں بلکہ ایک پورا کلچر، ایک معیشت اور ایک اجتماعی یادداشت اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں۔
وی سی آر اور ویڈیو شاپس کا سنہری دور
دو ہزار کی دہائی کے آغاز تک پنجاب کے تقریباً ہر محلے میں ایک ویڈیو شاپ ضرور ہوتی تھی۔ شیشے کی الماریوں میں سجی رنگین کیسٹس، دیواروں پر لگے فلمی پوسٹرز، اور کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا وہ دکاندار جو ہر نئی ریلیز کی خبر رکھتا تھا، یہ سب ایک مانوس منظر تھا۔
وی سی آر (ویڈیو کیسٹ ریکارڈر) گھریلو تفریح کا مرکز تھا۔ لوگ جمعرات یا جمعہ کی شام ویڈیو شاپ جاتے، نئی فلمیں کرائے پر لیتے اور پھر پورا خاندان یا دوست مل کر رات گئے تک فلم دیکھتے۔ عید کے دنوں میں تو ویڈیو شاپس کے باہر اس قدر رش ہوتا کہ بعض جگہوں پر پہلے سے بکنگ کرنی پڑتی تھی۔
معاشی طور پر یہ ایک چھوٹا مگر فعال نیٹ ورک تھا۔ فلموں کی نقل تیار کرنے والے، کیسٹ سپلائرز، دکاندار اور حتیٰ کہ وہ لڑکے جو کیسٹس گھروں تک پہنچاتے تھے، سب اس زنجیر کا حصہ تھے۔ ایک کامیاب ویڈیو شاپ روزانہ سینکڑوں روپے کما سکتی تھی جو اُس وقت کے لحاظ سے معقول آمدن تھی۔ دیہاتوں میں تو صورتحال یہ ہوتی تھی کہ گاؤں کے لوگ چندہ جمع کرکے قریبی قصبے یا شہر سے وی سی آر اور ٹی وی کرائے پر لاتے اور ساری رات چوپالوں میں اجتماعی فلم بینی ہوتی۔

ٹیکنالوجی نے اس نظام کو پہلے ڈی وی ڈی کی شکل میں بدلا، جہاں تصویر اور آواز کا معیار بہتر ہوا، مگر اصل دھچکہ انٹرنیٹ اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے دیا۔ یوٹیوب، نیٹ فلکس اور سمارٹ فونز نے فلم دیکھنے کو ایک ذاتی اور فوری تجربہ بنا دیا۔ اب نہ کسی دکان پر جانے کی ضرورت رہی، نہ کسی وقت کا انتظار۔
یوں ایک پورا کلچر، جس میں اجتماعی تفریح اور محلے کی سطح پر تعلق شامل تھا، آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔
ٹائپ رائٹر اور ٹائپنگ سینٹرز کی خاموش رخصتی
کچہریوں، تعلیمی اداروں اور بازاروں کے باہر ایک وقت میں ٹائپ رائٹر کی ٹک ٹک ایک عام آواز تھی۔ لکڑی کی میز، اس پر رکھا ہوا بھاری بھر کم ٹائپ رائٹر، اور سامنے بیٹھا ٹائپسٹ، یہ ایک مکمل پیشہ تھا۔
لوگ درخواستیں، بیانِ حلفی، خطوط اور دیگر دستاویزات ٹائپ کروانے کے لیے ان سینٹرز پر آتے تھے۔ ٹائپسٹ نہ صرف تیز رفتار ہوتا تھا بلکہ اکثر زبان اور قانونی اصطلاحات سے بھی واقف ہوتا تھا۔ ایک صفحہ ٹائپ کرنے کی فیس مقرر ہوتی اور دن بھر میں درجنوں صفحات ٹائپ کیے جاتے۔
یہ پیشہ ایک باقاعدہ معیشت کا حصہ تھا۔ ٹائپ رائٹر بنانے اور مرمت کرنے والے، ربن اور کاغذ کے سپلائرز، اور خود ٹائپسٹ، سب ایک مربوط نظام کا حصہ تھے۔
پھر کمپیوٹر آیا۔ پہلے سائبر کیفے بنے، پھر گھروں میں کمپیوٹر پہنچے، اور آخرکار سمارٹ فونز نے تحریر کو انگلیوں کی حرکت میں سمو دیا۔ پرنٹرز نے دستاویزات کی اشاعت کو آسان بنایا اور ای میل نے خطوط کی جگہ لے لی۔
ٹائپ رائٹر کی وہ مخصوص آواز، جو کبھی سرکاری دفاتر اور بازاروں کی پہچان تھی، اب صرف یادوں میں رہ گئی ہے۔
پی سی او بوتھ: آوازوں کا پل
ایک وقت تھا جب فون کرنا ایک واقعہ ہوتا تھا، سہولت نہیں۔ پی سی او (پبلک کال آفس) بوتھ اس دور کی اہم ضرورت تھے۔ پیلے یا نیلے رنگ کے چھوٹے کیبن، شیشے کی کھڑکی اور اندر رکھا لینڈ لائن فون، یہ ایک عام منظر تھا۔

لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے، خاص طور پر عید یا کسی تہوار کے موقع پر۔ دور دراز شہروں یا بیرون ملک بات کرنا ایک جذباتی لمحہ ہوتا تھا، جس کے لیے وقت اور پیسے دونوں درکار ہوتے تھے۔
پی سی او ایک منافع بخش کاروبار تھا۔ کال کے منٹس کے حساب سے چارج لیا جاتا اور مصروف علاقوں میں دن بھر گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا۔ اس کے ساتھ ٹیلی کام کمپنیوں کا ایک پورا نیٹ ورک اس سسٹم کو سپورٹ کرتا تھا۔
مگر موبائل فون نے اس پل کو غیر ضروری بنا دیا۔ پہلے کال ریٹس کم ہوئے، پھر سستے ہینڈ سیٹس عام ہوئے اور آخرکار سمارٹ فونز نے کمیونیکیشن کو ہر وقت، ہر جگہ ممکن بنا دیا۔
آج پی سی او بوتھ شاید ہی کہیں نظر آتے ہوں۔ ان کی جگہ جیب میں رکھا ایک فون لے چکا ہے مگر اس کے ساتھ وہ اجتماعی انتظار اور جذباتی شدت بھی کہیں کھو گئی ہے۔
لاہور کے علاقے ایبٹ روڈ سے تعلق رکھنے والے محمد ناصر بتاتے ہیں ’میرا خیال ہے کہ میرا پی سی او آخری تھا جو بند ہوا۔ میں نے 2001 میں کاروبار شروع کیا تھا، اور اس وقت یہ ایسا ہی کاروبار تھا جیسے کسی کا پیٹرول پمپ ہو۔ لوگ فخر سے کہتے تھے کہ میرا پی سی او ہے۔ میں جب یہ کام شروع کیا تو میرے پاس چھ کیبن تھے اور میں رات 12 بجے تک بیٹھا رہتا تھا کیونکہ لوگ اپنے پیاروں سے بات کر رہے ہوتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا جب مجھے لگنے لگا کہ میں کون سا کام کر رہا ہوں۔ اور یہ وہ وقت تھا جب یہ بتانا مشکل ہو گیا کہ میرا پی سی او کا کاروبار ہے، کیونکہ موبائل فون عام ہو چکا تھا اور ایک جھٹکے سے پی سی او بند ہو گئے۔‘
ویڈیو گیم آرکیڈز: گلیوں کی ڈیجیٹل دنیا
دو ہزار کی دہائی کے شروع میں ویڈیو گیم شاپس یا آرکیڈز نوجوانوں کے لیے ایک مقبول جگہ تھیں۔ چھوٹی سی دکان میں لگے ٹی وی سکرینز، پلے سٹیشن کنسولز اور ہاتھ میں پکڑا کنٹرولر، یہ سب ایک نئی دنیا کا دروازہ تھے۔

بچے اور نوجوان گھنٹوں کے حساب سے گیم کھیلتے۔ دوستوں کے ساتھ مقابلہ ہوتا، شور شرابہ ہوتا اور ہر جیت یا ہار ایک اجتماعی تجربہ بن جاتی۔
یہ بھی ایک چھوٹی مگر فعال معیشت تھی۔ کنسولز، گیم سی ڈیز، کنٹرولرز اور دکان کا کرایہ، سب اس کاروبار کا حصہ تھے۔ ایک مصروف گیم شاپ روزانہ اچھی خاصی کمائی کر سکتی تھی۔
پھر ٹیکنالوجی نے یہ منظر بدل دیا۔ گھروں میں پلے سٹیشن آ گئے، پھر موبائل گیمز نے ہر شخص کو اپنی سکرین تک محدود کر دیا۔ آن لائن گیمنگ نے دوستوں کو ایک ہی کمرے میں جمع ہونے کی ضرورت ختم کر دی۔
یوں گلی کی وہ مشترکہ ڈیجیٹل دنیا، جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے تھے، ایک فرد کے ہاتھ میں سمٹ گئی۔
پتنگ سازی اور بسنت کا زوال
لاہور کی شناخت میں بسنت کا تہوار ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا، چھتوں پر لوگ جمع ہوتے اور ’بو کاٹا‘ کی آوازیں ہر طرف گونجتیں۔

پتنگ سازی ایک مکمل صنعت تھی۔ کاغذ، بانس، ڈور اور مانجھا بنانے والے کاریگر، سب اس سلسلے کا حصہ تھے۔ اندرون لاہور کے بازاروں میں پتنگوں کی دکانیں سجی ہوتیں اور یہ کاروبار ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا تھا۔
پھر حفاظتی خدشات اور حادثات کے باعث اس پر پابندیاں لگیں۔ آہستہ آہستہ یہ تہوار ختم ہوتا گیا اور اس کے ساتھ ایک پوری معیشت بھی سکڑ گئی۔
اس سال حکومت نے اس کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ کوشش کسی حد تک کامیاب بھی رہی، تاہم اس صنعت سے وابستہ ماہر افراد کے لیے کام کرنا عملی طور پر اب بھی مشکل ہے۔ کیونکہ حکومت نے محدود عرصے کے لیے اجازت دینے کے بعد پابندی بدستور برقرار رکھی ہے، اور اب اس شعبے سے صنعت کا درجہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
یہ پانچ چیزیں محض سہولتیں نہیں تھیں بلکہ ایک پورے طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی تھیں۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں آسانی، رفتار اور انفرادی آزادی دی ہے مگر اس کے ساتھ کچھ اجتماعی تجربات بھی ہم سے لے لیے ہیں۔
یہ تبدیلی شاید ناگزیر تھی مگر اسے یاد رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ انہی یادوں میں وہ زمانہ بسا ہے جس نے آج کے دور کی بنیاد رکھی۔












