Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں ’ہاتھوں ہاتھ آنے والا زرمبادلہ‘ آدھا رہ گیا، اس بڑی کمی کی وجہ کیا ہے؟

ملک بوستان کے مطابق ان حالات کے باعث اس سال پاکستان آنے والی ہاتھوں ہاتھ نقد رقوم کم ہو کر قریباً سات ملین ڈالر رہ گئی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور فضائی سفر کی مشکلات کے باعث بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والی ہاتھوں ہاتھ نقد رقوم جنہیں عام طور پر ’ان ہینڈ کیش انفلو‘ کہا جاتا ہے، میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کمی نہ صرف ایک وقتی رجحان کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اگر حالات طویل عرصے تک برقرار رہے تو اس کے وسیع تر معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق اس سال ان ہینڈ کیش انفلو میں قریباً 50 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفری مشکلات کا نتیجہ ہے۔
عام حالات میں رمضان کا مہینہ پاکستان کے لیے ترسیلات زر اور نقد رقوم کی آمد کے حوالے سے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد عید منانے کے لیے وطن واپس آتی ہے۔ یہ افراد نہ صرف اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ نقد رقم بھی لاتے ہیں جو مقامی معیشت میں براہِ راست شامل ہو جاتی ہے۔
ملک بوستان کے مطابق ماضی میں رمضان کے دوران اوسطاً 15 سے 20 ملین ڈالر کے برابر رقم مسافر اپنے ساتھ پاکستان لاتے رہے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ایکسچینج کمپنیاں عموماً بینکوں کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد بہتر شرح مبادلہ فراہم کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے افراد نقد رقم ساتھ لانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم اس سال صورتحال اس روایت سے مختلف نظر آتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی ممالک میں فضائی آپریشن متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں پروازوں کی دستیابی کم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان عوامل نے نہ صرف سفر کو مشکل بنایا ہے بلکہ بہت سے پاکستانیوں کو، جو وطن واپس آنا چاہتے تھے، وہیں رکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ملک بوستان کے مطابق ان حالات کے باعث اس سال پاکستان آنے والی ہاتھوں ہاتھ نقد رقوم کم ہو کر قریباً سات ملین ڈالر رہ گئی ہیں جو کہ معمول کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کمی نے رمضان کے دوران نظر آنے والے روایتی اضافے کو بھی متاثر کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ عام طور پر ہر سال رمضان کے مہینے میں ترسیلات زر اور نقد رقوم دونوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے خاندانوں کی مدد اور عید کی تیاریوں کے لیے اضافی رقوم بھیجنے یا ساتھ لانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اگرچہ اس سال نقد رقوم میں کمی واضح ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا ایک متبادل اثر بھی سامنے آ سکتا ہے۔
معاشی امور کے ماہر سینیئر صحافی وکیل الرحمان کے مطابق ممکن ہے کہ جو رقوم پہلے نقد صورت میں پاکستان لائی جاتی تھیں، وہ اب بینکاری ذرائع کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہوں۔ اس طرح باضابطہ ترسیلات زر میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو رواں ماہ پاکستان کو موصول ہونے والی مجموعی ترسیلات زر قریباً چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ رقم معمول کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم یہ اضافہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ مجموعی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، کیونکہ نقد رقوم میں کمی ایک الگ چیلنج ہے۔
ملک بوستان نے اس صورتحال کے ممکنہ طویل مدتی اثرات کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ملازمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے اور ان میں سے قریباً 60 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے آتا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب وہ ممالک ہیں جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کش کام کرتے ہیں (فائل فوٹو:اے ایف پی)

خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب وہ ممالک ہیں جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کش کام کرتے ہیں اور وہاں سے بڑی مقدار میں زر مبادلہ پاکستان بھیجا جاتا ہے۔ اگر ان ممالک میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں یا ملازمتوں میں کمی آئی تو اس کے براہ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
اس حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بھی اہم تصویر پیش کرتے ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے فروری کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 26.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ ان میں سے 14.1 ارب ڈالر صرف مشرق وسطیٰ سے آئے، جو اس خطے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ رقم زیادہ ہے، جب پاکستان کو قریباً 23.97 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم موجودہ حالات اس رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عام طور پر ہر سال رمضان کے مہینے میں ترسیلات زر اور نقد رقوم دونوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ ہے، جہاں سے اس عرصے کے دوران قریباً 6.17 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کا نمبر آتا ہے، جہاں سے قریباً 5.44 ارب ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔
متحدہ عرب امارات کے اندر بھی مختلف ریاستوں کا حصہ نمایاں ہے۔ دبئی سے قریباً 4.16 ارب ڈالر، ابوظہبی سے 1.07 ارب ڈالر، شارجہ سے 84 ملین ڈالر جبکہ دیگر علاقوں سے 117 ملین ڈالر پاکستان منتقل کیے گئے۔
اسی طرح دیگر خلیجی ممالک سے بھی خاطر خواہ ترسیلات موصول ہوئیں۔ مجموعی طور پر ان ممالک سے قریباً 2.52 ارب ڈالر پاکستان آئے، جن میں عمان، قطر، کویت اور بحرین شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک پاکستان کے لیے اہم معاشی شراکت دار سمجھے جاتے ہیں، خاص طور پر افرادی قوت کے حوالے سے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال بینکاری ذرائع سے ترسیلات میں اضافہ ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے لیکن ہاتھوں ہاتھ نقد رقوم میں کمی ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نقد رقوم براہِ راست مقامی منڈیوں میں شامل ہوتی ہیں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے فوری سہارا فراہم کرتی ہیں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی سیاسی حالات کس طرح عام افراد کی زندگیوں اور ملکی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ فضائی سفر میں رکاوٹیں بظاہر ایک محدود مسئلہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس کے اثرات ترسیلاتِ زر، تجارت اور روزگار جیسے اہم شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔
اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جلد کم ہو جاتی ہے اور فضائی آپریشن معمول پر آ جاتے ہیں تو امکان ہے کہ یہ کمی عارضی ثابت ہو۔ تاہم اگر صورتحال طویل ہوتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف نقد رقوم بلکہ مجموعی ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر: