مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی افواج کی آمد، ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائیاں روکنے کے اشارے
مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی افواج کی آمد، ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائیاں روکنے کے اشارے
ہفتہ 21 مارچ 2026 14:21
جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد ایران میں 1300، لبنان میں 1000، اسرائیل میں 15 اور خطے میں موجود 13 امریکی فوجیوں تک پہنچ گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں فوجی آپریشنز کو ’لپیٹنے‘ (ختم کرنے) پر غور کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ نے خطے میں مزید جنگی جہاز اور میرینز بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور ایران نے دنیا بھر میں سیاحتی مقامات پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ ملے جلے پیغامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ہے۔
اس کے فوراً بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ وہ بحری جہازوں پر لدے ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹا دے گی جس کا مقصد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔
ان حالات میں جنگ کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح ایران نے اس پر میزائل فائر کرنا جاری رکھا جبکہ سعودی عرب نے بتایا کہ اس نے ملک کے مشرقی علاقے میں جہاں تیل کی بڑی تنصیبات واقع ہیں، محض چند گھنٹوں میں 20 ڈرونز مار گرائے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد ایران میں 1300، لبنان میں 1000، اسرائیل میں 15 اور خطے میں موجود 13 امریکی فوجیوں تک پہنچ گئی ہے۔ لبنان اور ایران میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے تہران اور بیروت میں اہداف پر حملے
اسرائیلی فوج نے سنیچر کی صبح کہا کہ وہ تہران میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فوج نے بتایا کہ اس نے لبنان کے شہر بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے بیروت کے مضافات میں سات محلوں کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی، جس کے بعد بعض رہائشیوں نے واپس آنے والے خاندانوں کو الرٹ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ وہ دوبارہ وہاں سے نکل جائیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ کروڈ کی قیمت قریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی جو رواں ہفتے 119.50 ڈالر تک پہنچ گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یونائیٹڈ ایئرلائنز کی تیل کی قیمت 175 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی تیاری
یونائیٹڈ ایئرلائن کے سی ای او کا کہنا ہے کہ کمپنی اس صورتحال کے لیے بھی تیار ہے کہ تیل کی قیمت اگلے سال کے آخر تک 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے نہ آئے۔
سکاٹ کربی نے جمعے کو یونائیٹڈ کے ملازمین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ جیٹ فیول کی قیمتیں جو گزشتہ تین ہفتوں میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اگر موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو ایئرلائن کو سالانہ 11 ارب ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ کروڈ کی قیمت قریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی جو رواں ہفتے 119.50 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
بدترین صورتحال کے خدشے پر سکاٹ کربی نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس بات کا اچھا امکان ہے کہ حالات اتنے خراب نہ ہوں لیکن اس نتیجے کے لیے پہلے سے تیاری کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے۔‘