خفیہ معلومات لیک کرنے کا الزام، امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ کی تردید
جو کینٹ نے کہا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔‘ (فوٹو: اے پی)
امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ جو رواں ہفتے ایران جنگ کی مخالفت میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے، نے جمعہ کے روز ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ’انہوں نے خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر شیئر کیں۔‘
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایف بی آئی یہ تفتیش کر رہی ہے کہ آیا جو کینٹ نے ایسی معلومات لیک کی بھی ہیں یا نہیں، جن کے بارے میں اس پورے معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے۔
اس شخص نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’یہ تفتیش ان (جو کینٹ) کے منگل کے روز استعفیٰ دینے سے قبل شروع ہوئی تھیں۔‘ اس حوالے سے مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
جو کینٹ نے سیریس ایکس ایم کے پروگرام ’دی میگن کیلی شو‘ میں یہ کہا ہے کہ ’جہاں تک لیک کے الزامات کا تعلق ہے، میں پریشان نہیں ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘
انہوں نے اشارتاً یہ بھی کہا کہ ’انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔‘
جو کینٹ نے کہا کہ ’مجھے صرف یہ فکر ہے کہ ایف بی آئی اور حکومت ان لوگوں پر پورا دبائو ڈالتی ہے جو اپنی رائے کا کھل کر ظاہر کرتے ہیں اور ہم یہ سب دیکھ چکے ہیں۔‘
امریکی محکمۂ انصاف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ سیاسی مخالفین کے خلاف کئی تحقیقات کی ہیں جن میں سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومے بھی شامل ہیں، حالانکہ پراسیکیوٹرز اکثر الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
امریکی حکومت کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے منگل کو استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’اپنے ضمیر کی آواز پر‘ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔
جو کینٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’ایران ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع کی۔‘
بعدازاں ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہمیشہ جو کینٹ کو ’سکیورٹی کے معاملے میں کمزور‘ تصور کرتے رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ میں اگر کسی کو ایران سے خطرہ محسوس نہیں ہوتا ’تو ہم ایسے لوگوں کو نہیں چاہتے۔‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر حکام جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی شامل ہیں، نے بعد میں جو کینٹ اور ان کے موقف سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔