امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی میرینز اور بحریہ کے دیگر اہلکاروں کو تعینات کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف شروع کی گئی اُس کی جنگ کو تین ہفتے مکمل ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تین امریکی حکام نے جمعے کو بتایا کہ تاحال ایرانی سرحد کے اندر براہِ راست فوج اُتارنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں آئندہ کی کارروائیوں کے لیے صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ان امریکی حکام کے مطابق بحریہ کا جنگی جہاز ’یو ایس ایس باکسر‘ اور اس کے ساتھ موجود ’میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ‘ اور دیگر جنگی جہازوں کو بھی بھیجا جا رہا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فی الحال فوج کو ’کہیں بھی‘ نہیں بھیج رہے، لیکن اگر ایسا کیا تو وہ صحافیوں کو نہیں بتائیں گے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ دستے امریکہ کے مغربی ساحل سے طے شدہ وقت سے قریباً تین ہفتے قبل روانہ ہو رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے فوری طور پر اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مشرقِ وسطیٰ میں قریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور اب خطے میں امریکی میرین ایکسپیڈیشنری یونٹس کی تعداد بھی دو ہو جائے گی۔
عام طور پر ایک ’میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ‘ میں قریباً 2500 میرینز شامل ہوتے ہیں، جو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جیسے بحری جہازوں سے جنگی طیاروں کے ذریعے حملے کرنا یا زمینی کارروائیوں میں حصہ لینا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج پہلے ہی ایران کے خلاف اپنی مہم کے ممکنہ اگلے مراحل کی تیاری کر رہی ہے، جو 28 فروری کو شروع کی گئی تھی۔