Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈاکٹر، انجینئر یا ڈیجیٹل انٹرپرینیور؟ پاکستانی نوجوانوں کے بدلتے ہوئے کیریئر رجحانات

پاکستان میں یوٹیوب سے آمدن کا باقاعدہ نظام قریباً 2010 کے بعد فعال ہونا شروع ہوا (فائل فوٹو: ورلڈ بینک بلاگ)
گزشتہ کچھ برسوں میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے نوکری خاص طور پر کیرئیر سے متعلق نوجوانوں کی سوچ کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔
محمد کامران کا تعلق لاہور سے ہے جب انہوں نے میٹرک کیا تو اس وقت ان کو یہی علم تھا کہ سائنس میں اچھے نمبرز لینے کے بعد ایک دفعہ میڈیکل کی ’ٹرائی‘ ضرور کرنی ہے لیکن کئی برس گزرنے کے بعد اب وہ ایک اچھے یوٹیوبر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پروڈکشن کا اپنا کاروبار کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت فیصلہ لینا مشکل تھا لیکن دنیا بہت تیزی سے بدل رہی تھی، آئے روز لوگ چھوٹی چھوٹی چیزیں کر کے وائرل ہو رہے تھے اور پیسے بھی کما رہے تھے تو میں بھی سب کچھ چھوڑ کر اپنی قسمت فیصلہ خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اب میں اپنا ایک کامیاب کاروبار کر رہا ہوں۔‘
لاہور ہی سے تعلق رکھنے والی شفق رشید گیمنگ انڈسٹری میں فری لانسر ہیں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ گیمز کے کچھ حصے ڈیزائن کرنے کا خاصہ تجربہ رکھتی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میری لاٹری کو کورونا کے دنوں میں نکلی جب میں ایک آن لائن فورم کے ذریعے ایک برطانوی کمپنی کے ساتھ کام شروع کیا اور پھر اتنے پیسے کمائے کہ اب میں اپنا خود کا گیمنگ کورس جلد لانچ کر رہی ہوں۔ جو جلدی مارکیٹ میں آ جائے اور تھوڑی سی بھی رغبت رکھنے والے اس کورس سے اتنا کچھ سیکھ پائیں گے کہ گھر بیٹھے بیٹھے دنیا کی سب سے تیزی سے پھیلتی انڈسٹری کے ساتھ جڑ سکیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کےدور میں معیشت لوگوں کے اپنے ہاتھوں میں زیادہ آ گئی ہے۔‘
یہ دونوں کہانیاں بظاہر تو الگ ہیں لیکن ایک ہی معیشت جسے اب ڈیجیٹیل معیشت کہا جاتا ہے، کے مختلف چہرے ہیں۔ یہ وہ معیشت ہے جو خاموشی سے بنی، مگر اب دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اور اسی میں سے پاکستان کے نواجوان بھی اپنا حصہ نکال رہے ہیں۔
پاکستان میں تین طرح سے نوجوان اس سے جڑے ہیں۔ ایک کونٹنٹ کرئیٹرز جو یوٹیوب وغیرہ سے پیسہ کما رہے ہیں،  دوسرے فری لانسر اور تیسرے ڈیجیٹل خریدوفروخت جیسے ڈراپ شپنگ وغیرہ سے جڑے ہی۔
یوٹیوب: تفریح سے خبر تک اور پھر معیشت تک
پاکستان میں یوٹیوب سے آمدن کا باقاعدہ نظام قریباً 2010 کے بعد فعال ہونا شروع ہوا، جب عالمی سطح پر اشتہاری نظام نے مقامی تخلیق کاروں کو بھی شامل کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سستے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے پھیلاؤ نے اس کو ایک عوامی ذریعہ بنا دیا۔
آج پاکستان میں یوٹیوب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل میڈیا نظام بن چکا ہے۔ پاکستان میں یوٹیوب پر دو واضح دھارے سامنے آئے ہیں۔ ایک تفریحی مواد بنانے والے، جن میں ولاگرز، مزاحیہ ویڈیوز بنانے والے اور روزمرہ زندگی دکھانے والے شامل ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو خبروں اور تجزیے کی طرف آئے ہیں۔
یہاں ایک اہم تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ صحافت اب صرف ٹی وی چینلز تک محدود نہیں رہی۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں تک کے نمائندے اپنے یوٹیوب چینلز چلا رہے ہیں۔ وہ مقامی خبریں خود ریکارڈ کرتے ہیں، خود نشر کرتے ہیں اور براہ راست عوام تک پہنچاتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ مرکزی میڈیا کو بھی ان یوٹیوبرز کو نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ پہلے یوٹیوب پر آتا ہے اور بعد میں ٹی وی چینلز اسے اٹھاتے ہیں۔ بعض یوٹیوبرز خود خبر بن گئے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر باقاعدہ خبریں نشر کی جاتی ہیں۔
آمدن کے لحاظ سے یوٹیوب ایک غیر منظم مگر طاقتور شعبہ ہے۔ بڑے یوٹیوبرز ایک ویڈیو کے بدلے لاکھوں  روپے تک وصول کرتے ہیں جبکہ اشتہارات اور دیگر ذرائع سے ماہانہ آمدن کئی لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہزاروں ایسے بھی ہیں جو معمولی آمدن پر کام کر رہے ہیں۔
رزاق علی ایک پلیٹ فارم چلاتے ہیں جہاں درجنوں یوٹیوبرز اپنا مواد ایڈیٹ کروانے اور تھمب نیل کے لئے ان کی خدمات لیتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسی معیشت ہے جس میں داخل ہونا آسان ہے مگر مستحکم ہونا مشکل۔ ہر کوئی اس میں آ تو رہا ہے کہ جتنا یہ آسان لگتا اتنا ہی اس کو سنبھلانا مشکل ہے میں اب ایسے لوگوں کو سروسز دیتا ہوں جو اچھے کرییٹر ہیں لیکن وہ تکنیکی معاملات پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تو میں ان کی آمدن میں حصہ دار ہوتا ہوں ۔ میری ٹیم ان کا سارا کام رہی ہوتی ہے۔ بڑے یوٹیوبرز نے اپنی ٹیمیں رکھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں تو اب یہ ایک پوری انڈسٹری کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ کیونکہ اس میں سب کے لئے مواقع ہیں۔‘
فری لانسنگ : خاموش برآمدی طاقت
اگر پاکستان کی نئی معیشت کا سب سے مضبوط ستون دیکھا جائے تو وہ آزاد پیشہ ورانہ خدمات یا فری لانسنگ ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے آزاد پیشہ ور افراد نے صرف مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پانچ سو ستاون ملین ڈالر زر مبادلہ ملک میں لایا جو پچھلے سال کے مقابلے میں اٹھاون فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح مجموعی طور پر پاکستان کی اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور متعلقہ برآمدات چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ جو کہ ایک بڑی سالانہ آمدن میں شمار ہوتی ہے۔  
پاکستان میں کئی سالوں سے اس شعبے سے وابستہ ثاقب اظہر کہتے ہیں کہ ’پاکستانی فری لانسرز سے جو کچھ کیا ہے اس سے ملکی معیشت کو کافی فائدہ دیا ہے۔ یہ شعبہ اب محض جز وقتی کام نہیں بلکہ ایک مکمل برآمدی صنعت بن چکا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ گرافک ڈیزائن، ویب سائٹ سازی، ویڈیو ایڈیٹنگ، مواد نویسی، ڈیجیٹل تشہیر اور آن لائن تجارت سے متعلق خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ رجحان تین شعبوں میں دیکھا جا رہا ہے پہلا سافٹ ویئر اور ویب ڈیولپمنٹ، دوسرا ڈیجیٹل مارکیٹنگ اورتیسرا تخلیقی کام جیسے ڈیزائن اور ویڈیو۔ یہ نوجوان دنیا بھر کے گاہکوں کے لیے کام کرتے ہیں اور ڈالر میں کمائی کرتے ہیں۔ ‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے پیچھے ایک مکمل تربیتی نظام بھی بن چکا ہے۔ حکومت اور نجی ادارے نوجوانوں کو اس کام کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر ایک پروگرام کے ذریعے ملک کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کو آزاد پیشہ ورانہ مہارتیں سکھائی جا رہی ۔ مگر اس کے باوجود یہ شعبہ مکمل طور پر منظم نہیں۔ زیادہ تر لوگ غیر رسمی طریقے سے کام کر رہے ہیں، اور ان کے پاس کوئی قانونی تحفظ یا مستقل نظام موجود نہیں۔ اور حکومتی پالیسی ایک طرف تو فری لانسنگ کو فروغ دینے کی ہے دوسری طرف انٹرنیٹ کی سپیڈ اور پابندیوں نے ایک نئی طرح کی مشکل کھڑی کی ہوئی ہے۔‘
آن لائن کاروبار
اس معیشت کا تیسرا پہلو پاکستان میں آن لائن کاروبار  کا ہے۔ یہ صرف بڑی ویب سائٹس تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا کے ذریعے چل رہے ہیں۔ اس معیشت کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ یعنی بہت سے کاروبار رجسٹرڈ نہیں، اور لین دین کا بڑا حصہ نقد ادائیگی پر ہوتا ہے۔
ثاقب اظہر کا کہنا ہے کہ ’اس شعبے کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بڑے پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار بھی فروغ پا رہے ہیں۔ ایک نوجوان گھر بیٹھے کپڑوں، جیولری، کھانے پینے کی اشیا یا دیگر مصنوعات فروخت کر سکتا ہے۔ اس میں ڈراپ شپنگ جیسے ماڈلز بھی شامل ہیں، جہاں سامان براہ راست سپلائر سے گاہک تک پہنچتا ہے اور بیچنے والا صرف آرڈر سنبھالتا ہے۔ آن لائن کاروبار کی سب سے بڑی کشش اس کی کم لاگت ہے۔ نہ دکان کا کرایہ، نہ بڑا سرمایہ۔ صرف ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کافی ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوٹیوب، آزاد پیشہ ورانہ خدمات اور آن لائن کاروبار نوجوانوں کو تین چیزیں دیتے ہیں آمدن، آزادی اور اختیار یہ وہ چیزیں ہیں جو روایتی نظام فراہم نہیں کر پا رہا۔ جس کی وجہ سے کیرئیر چوائسز مکمل طور پر تبدیلی ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

شیئر: