Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی جارحیت ناقابل قبول، حملے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں: جی سی سی

خلیجی ممالک کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔( فوٹو: روئٹرز)
خلیج تعاون کونسل( جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے خلیجی ممالک کے خلاف ایران کے مسلسل بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق بیان میں تہران کے اقدامات کو ’ناقابل قبول جارحیت‘ قرار دیا اور کہا ’مسلسل حملے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کر نقصان پہنچاتے اور علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی دونوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘
جاسم البدیوی نے کہا’ حملوں میں انفراسٹرکچر اور تیل تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے جو خطے کے امن و استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔‘
انہوں نے خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں کو اشتعال انگیز رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ یہ اقدامات نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ علاقائی و عالمی سلامتی کو بھی خطرے سے دوچار کرنے کا باعث ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’خلیجی ریاستوں کو کس بھی فوجی کارروائی کا ذمہ دار ٹھرانے کے ایرانی دعوے بے بنیاد ہیں، انہیں واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘
 انہوں نے واضح کیا ’خلیجی ممالک ہمیشہ سے  دوسروں کی خود مختاری کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسیوں کے قائل ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ’ جی سی سی کے رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ وہ اپنی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے جارحیت کا جواب دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔‘
البدیوی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ’وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کرے اور ایک موثر و ٹھوس موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کو سلامتی کونسل کی قرارداد 2817  پرعمل کرنے پر مجبور کرے اور ہمسایہ ملکوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور کاررائیوں  کو روکا جائے۔‘
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ  جی سی سی کے رکن ممالک ہر اس خطرے کے مقابلے میں متحد اور مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں جو ان کی سلامتی اور مفادات کو متاثر کرے۔ خطے کے استحکام اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

 

شیئر: