Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ جانے کی خواہش میں قطر میں پھنسے افغان اپنے ملک واپس آسکتے ہیں: افغانستان

گروپ نے کہا کہ ’ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریہ کانگو نہیں جانا چاہتے جوخود ایک جنگ زدہ ملک ہے۔ (فوٹو: اے پی)
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ افغان جنہوں نے جنگ کے دوران امریکہ مدد کی اور اب امریکہ پہنچنے کی امید میں قطر میں رکے ہوئے ہیں، وہ محفوظ طریقے سے افغانستان واپس آ سکتے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہفتے کے روز وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات ملی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے والے 1100 افغانوں اور امریکی فوجیوں کے رشتہ داروں کو ممکنہ طور پر کانگو بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔
افغانوں کی آبادکاری میں مدد کرنے والی ایک تنظیم افغان ایویک نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی حکام نے اسے آگاہ کیا ہے کہ امریکہ اور کانگو کے درمیان اُن افغان مہاجرین کو لینے کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے جو گذشتہ ایک سال سے دوحہ میں امریکی فوجی اڈے کیمپ السیلیہ میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ مہاجرین کو کسی تیسرے ملک میں ’رضاکارانہ‘ طور پر آباد کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر کام کر رہا ہے، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک سے بات ہو رہی ہے۔

 افغان ایویک کے مطابق مہاجرین کو ایک متبادل یہ بھی دیا گیا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں، جہاں انہیں طالبان کی جانب سے انتقام یا حتیٰ کہ موت کا خطرہ ہے۔ طالبان نے 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، اور وہ ان افراد کو نشانہ بنا سکتے ہیں جنہوں نے گذشتہ دو دہائیوں کی جنگ کے دوران امریکہ کا ساتھ دیا۔
افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان تمام افغانوں کا مشترکہ وطن ہے، اور اس نے ایسے تمام افراد کو دعوت دی ہے کہ وہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ اپنے وطن واپس آئیں کیونکہ ان کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
بلخی نے مزید کہا کہ جو افراد کسی دوسرے ملک جانا چاہتے ہیں وہ مناسب وقت پر قانونی اور باوقار طریقے سے ایسا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی وزارتِ خارجہ تمام ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، اور یہ واضح کیا کہ افغانستان میں کوئی سکیورٹی خطرہ موجود نہیں ہے اور کسی کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ملک چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا رہا۔
افغان ایویک کی جانب سے کیمپ السیلیہ میں موجود افراد کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انہیں اپنی ممکنہ منتقلی کے بارے میں امریکی حکام سے کوئی معلومات نہیں دی گئیں اور انہوں نے اس کے بارے میں میڈیا کے ذریعے سنا۔ انہوں نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال نے ان کی زندگیوں پر شدید منفی اثر ڈالا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ غیر یقینی صورتحال ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ شدید ذہنی دباؤ پایا جاتا ہے۔‘
بیان میں مزید بتایا گیا کہ کچھ افراد ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
گروپ نے کہا کہ ’ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریہ کانگو نہیں جانا چاہتے۔  وہ خود ایک جنگ زدہ ملک ہے۔ ہم پہلے ہی کافی جنگ دیکھ چکے ہیں، ہم اپنے بچوں کو ایک اور جنگ میں نہیں لے جا سکتے۔‘
افریقی ملک کانگو گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی مشرقی سرحدوں پر حکومتی افواج اور روانڈا کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان لڑائی سے متاثر رہا ہے۔
دوحہ کے کیمپ میں موجود افغانوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان واپس جانا بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان ہمیں امریکہ کے لیے کام کرنے کی وجہ سے قتل کر دیں گے۔
’یہ صرف خدشہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ امریکہ اس بات کو جانتا ہے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے اپنے وطن واپس نہیں جا سکتے۔‘
منتقلی سے متعلق بات چیت، جس کی ابتدائی خبر نیو یارک ٹائمز نے دی، اُس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیشرو کے افغان آبادکاری پروگرام کو ایک سال سے زیادہ پہلے معطل کر دیا تھا، جو امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کے سلسلے کا حصہ تھا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں مہاجرین، جو جنگ اور ظلم و ستم سے بچ کر نکلے تھے اور امریکہ میں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے طویل جانچ کے مراحل سے گزر چکے تھے، دنیا بھر میں مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے، جن میں قطر کا یہ فوجی اڈہ بھی شامل ہے۔

شیئر: