ڈیجیٹل آئی ڈی کے باوجود فوٹو کاپی کا استعمال، نادرا کی ہدایت پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟
ڈیجیٹل آئی ڈی کے باوجود فوٹو کاپی کا استعمال، نادرا کی ہدایت پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟
پیر 23 مارچ 2026 15:19
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
نادرا نے پچھلے مہینے شناخت کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا تھا (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان میں اگر آپ کسی سرکاری یا نجی ادارے میں کوئی کام کروانے جائیں تو عموماً آپ سے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی طلب کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ تقاضا ہوتا ہے، لیکن یہی کاپی بعد میں جعلسازوں کے ہاتھ لگ کر دھوکہ دہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
حال ہی میں نادرا نے فوٹو کاپی کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو قانونی طور پر فزیکل شناختی کارڈ کے مساوی حیثیت دے دی ہے، اور اسے بطور شناخت قبول کرنا لازم قرار دیا ہے۔
تاہم اس پیش رفت کے باوجود زمینی صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے مقامات پر اب بھی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی ہی طلب کی جاتی ہے جبکہ بعض دکاندار اور سرکاری دفاتر ڈیجیٹل شناخت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
اس نوعیت کے واقعات مختلف شہروں سے مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ اسلام آباد کے رہائشی سید محمد علی نے بھی اردو نیوز کو کچھ ایسا ہی بتایا۔
اُنہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے اپنا کام کروانے کی کوشش کی، تاہم بینک نے اسے تسلیم نہ کیا اور ہارڈ کاپی طلب کی، جس کے بعد ہی ان کا کام مکمل ہو سکا۔
دوسری جانب نادرا کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو شہریوں سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی فزیکل یا فوٹو کاپی طلب کرنے کے بجائے ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو ہی بطور شناخت استعمال کرنا چاہیے اور ‘پاک آئی ڈی’ پر دستیاب ڈیجیٹل شناختی اسناد کو قبول نہ کرنا قانون کے خلاف ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 اور ڈیجیٹل شناختی قواعد 2025 کے تحت جاری کی گئی ڈیجیٹل شناختی اسناد کو وہی قانونی حیثیت حاصل ہے جو فزیکل شناختی دستاویزات کو حاصل ہوتی ہے۔ ریگولیشن 9 اور 10 کے مطابق تمام سرکاری اور نجی ادارے ان دستاویزات کو بطور درست شناخت قبول کرنے کے پابند ہیں۔
نادرا کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ اور جدید بنانا ہے (فوٹو: نادرا)
نادرا کے مطابق ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے استعمال سے غیر ضروری فوٹو کاپیوں کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جس سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ بہتر بنایا جا سکتا ہے اور معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام بھی ممکن ہے۔
نادرا نے تمام سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
مزید برآں شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی جگہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول نہ کیا جائے تو وہ اپنی شکایت نادرا کے شکایتی نظام میں درج کرائیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نادرا مختلف دفاتر میں ان قوانین پر عمل درآمد بھی کروا سکتا ہے؟
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ اور جدید بنانا ہے۔ اس حوالے سے نادرا کا حالیہ اقدام شہریوں کے لیے ایک اہم سہولت ہے، تاہم وہ براہ راست مختلف دفاتر میں ان قوانین پر عمل درآمد کروانے کا مجاز نہیں۔
نادرا کے مطابق ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے استعمال سے غیر ضروری فوٹو کاپیوں کی ضرورت کم ہو جاتی ہے (فوٹو: اے پی پی)
نادرا کے مطابق اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو متعلقہ ادارے، جیسے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل شناخت کیوں ضروری ہے؟
اس سوال کے جواب کے لیے ہم نے سائبر سکیورٹی ماہر اور ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر عمار جعفری سے بات کی۔ ان کے مطابق شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی دینا ایک پرانا طریقہ کار ہے، جس کے ساتھ مختلف نوعیت کے فراڈ کے خدشات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی شناختی دستاویز کی کاپی فراہم کرتا ہے اور بعد میں اس کا غلط استعمال ہو جائے تو نہ صرف اس کی شناخت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ وہ قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کر سکتا ہے۔
عمار جعفری کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں ڈیجیٹل شناخت کا نظام پہلے ہی رائج ہے، اور پاکستان میں بھی اس کا مؤثر نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں مقیم سائبر سکیورٹی ماہر محمد اسد الرحمن کہتے ہیں کہ یہ اقدام بظاہر اہم ہے، لیکن پاکستان میں اکثر پالیسیاں بننے کے بعد ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔
ان کے مطابق حکومت کو گورننس، رسک اور کمپلائنس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کرنی چاہیے، یعنی پہلے گورننس کا واضح نظام، پھر ممکنہ خطرات کا جائزہ، اور آخر میں مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔