Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ میں پانی بھی ہتھیار بننے لگا، خطے کو بڑے انسانی بحران کا خطرہ

ایران کے عسکری کمانڈر نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں پانی کے منصوبے ہدف ہوں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں اب پانی کی فراہمی کے نظام بھی ممکنہ جنگی اہداف بن رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے توانائی اور پانی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکہ اور اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر، خصوصاً ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹس پر حملے کرے گا۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی۔
جواب میں ایران کے عسکری کمانڈر نے واضح کیا کہ ’کسی بھی جارحیت کی صورت میں توانائی، آئی ٹی اور پانی کے منصوبے ہدف بن سکتے ہیں۔‘
حال ہی میں بحرین نے الزام لگایا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، اگرچہ حکام کے مطابق پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔ دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے کئی پانی اور توانائی کے منصوبے حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانی کے ذخائر اور سپلائی سسٹمز کو نشانہ بنانا ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ پانی کی ماہر معاشیات ایسٹر کراوزر ڈیلبرگ کے مطابق ’پانی پر حملے موجودہ جنگ سے کہیں بڑی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔‘
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے خشک ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں پانی کی دستیابی عالمی اوسط سے تقریباً دس گنا کم ہے۔ اسی وجہ سے ڈی سیلینیشن پلانٹس یہاں کی معیشت اور روزمرہ زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور کویت جیسے ممالک میں پینے کے پانی کا بڑا حصہ انہی پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے.
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ تنصیبات متاثر ہوئیں تو بڑے شہروں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نقل مکانی، راشن بندی اور معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔ سیاحت، صنعت اور ڈیٹا سینٹرز جیسے شعبے بھی بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ان خطرات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، بعض اہم پلانٹس کے گرد میزائل دفاعی نظام بھی نصب کیے گئے ہیں جبکہ ہنگامی حالات کے لیے پانی کے ذخائر بھی محفوظ کیے جا رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو پانی جیسے بنیادی وسیلے کا جنگ میں استعمال پورے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

شیئر: