Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملہ، حزب اللہ کے ’زیر استعمال‘ پُل کو تباہ کر دیا

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل نے اتوار کو جنوبی لبنان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے ایک اہم پل کو یہ کہہ کر نشانہ بنا ڈالا کہ ’حزب اللہ کی نقل و حرکت اور اسلحے کی ترسیل روکی جا سکے۔‘
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیل کی طرف سے فوج کو دریائے لیتانی پر موجود تمام گزرگاہیں تباہ کرنے اور سرحدی علاقوں میں گھروں کی مسماری تیز کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی جانب سے انفراسٹرکچر، خاص طور پر قاسمیہ پل اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا لبنان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ حملے خطرناک حد تک کشیدگی بڑھا رہے ہیں اور ممکنہ زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔‘
رپورٹس کے مطابق حملے میں ساحلی شاہراہ پر واقع ایک اہم پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جو جنوبی اور وسطی لبنان کے درمیان رابطے کا بڑا ذریعہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حملے سے قبل ہی پل کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق حملے سے پہلے انہیں وارننگ ملی جس پر انہوں نے علاقہ خالی کر دیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا گھر پل کے قریب واقع ہے،جو پہلے بھی جنگ میں تباہ ہو چکا تھا اور حال ہی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ’اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور طبی عملہ بھی شامل ہے۔‘
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ’دریائے لیتانی پر موجود تمام پلوں کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ حزب اللہ کی نقل و حرکت اور اسلحے کی ترسیل روکی جا سکے۔‘
انہوں نے سرحدی دیہات میں گھروں کو مسمار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں جسے غزہ کے علاقوں بیت حنون اور رفح میں اپنائی گئی حکمت عملی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پلوں کی تباہی سے جنوبی لبنان کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو سکتا ہے جس سے خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی شدید متاثر ہو کر انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیرو نے بھی اسرائیلی حکام سے ملاقات کے دوران بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ مسئلے کا حل صرف فوجی کارروائی سے ممکن نہیں۔
ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں حزب اللہ کے خلاف کی جا رہی ہیں تاکہ شمالی اسرائیل میں رہنے والے شہریوں کو حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

شیئر: