بندھو گڑھ سے اچنکمار تک: شیرنی جھمری کے غائب ہونے اور تین سال بعد بچوں کے ساتھ نظر آنے کی کہانی
بندھو گڑھ سے اچنکمار تک: شیرنی جھمری کے غائب ہونے اور تین سال بعد بچوں کے ساتھ نظر آنے کی کہانی
منگل 24 مارچ 2026 5:14
تین سال تک جھمری کسی بھوت کی طرح رہی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یہ سنہ2018 کی بات ہے جب انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے بندھو گڑھ کے گھنے جنگل سے جہاں ہر درخت، ہر پگڈنڈی اور ہر سایہ نگرانی میں ہوتا ہے، ایک مادہ شیرنی اچانک غائب ہو گئی۔اس کا نام جھمری تھا۔
نہ اس کے کسی شکار کا نشان، نہ کوئی لاش، نہ کسی تصادم کا کوئی شائبہ۔ بس وہ شیرنی کیمرہ ٹریپس کی آنکھوں سے اچانک اوجھل ہو گئی، جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
جنگل کے ریکارڈ میں ایک خاموش خلا پیدا ہو گیا، جسے اہلکاروں نے بھی خاموشی سے ٹوٹ کر لیا۔
تین سال تک جھمری کسی بھوت کی طرح رہی یعنی موجود تو تھی مگر آنکھوں سے اوجھل۔ جنگل کے اصولوں میں یہ ایک عجیب بات تھی، کیونکہ یہاں ہر شیر کی نقل و حرکت، ہر دھاری کی پہچان، ایک منظم نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ لیکن جھمری اس نظام سے باہر نکل چکی تھی۔
پھر سنہ 2021 میں ایک دن وہ اچانک اپنے مسکن سے کوئی چار سو کلومیٹر دور مدھیہ پردیش سے ملحق ریاست چھتیس گڑھ کے اچنکمار کے جنگل میں لگے ایک کیمرہ ٹریپ میں نظر آئی۔ وہ سال کے درختوں کے درمیان سے گزر رہی تھی اور اس کے پیچھے اس کے بچے تھے۔
تصویر کا تجزیہ ہوا، دھاریوں کا موازنہ کیا گیا اور ایک حیران کن سچ سامنے آیا، یہ جھمری تھی۔ وہ زندہ تھی، ایک نئے جنگل میں، اپنے بچوں کے ساتھ تھی۔
جنگل کے ماہرین نے اسے ایک نیا نام ’ٹی کے ایٹ‘ دیا مگر اس کا اصل نام جھمری ہی رہا۔
’سینکچوئری نیچر فاؤنڈیشن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جھمری کی پیدائش مدھیہ پردیش کے بندھو گڑھ جنگل میں سنہ2016 میں ہوئی تھی۔ اس کی والدہ کا نام سپاٹی تھا اور وہ منگو نام کے نر شیر کے جماع سے پیدا ہوئی تھی۔
کہتے ہیں کہ اس کی شناخت سنہ2022 تک غیر یقینی رہی، جب کیمرہ ٹریپس نے اس بات کی تصدیق کی جس کا بہت کم لوگوں نے تصور کیا تھا، یہ جھمری تھی۔
اس نے کویڈ 19 کے لاک ڈاؤن کی خاموشی کے دوران، ممکنہ طور پر 2020 کے آس پاس، اے ٹی آر میں ایک نیا علاقہ قائم کرنے کے لیے انسانی اکثریت والے لینڈ سکیپ سے ہوتے ہوئے سفر کیا تھا۔
شیر اور شیرنیاں عام طور پر نئے علاقے کی تلاش میں سفر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن اس طرح کے طویل فاصلے تک جانا نایاب اور خطرناک ہے۔
بندھو گڑھ سے نکلنے کے بعد جھمری کو گھنے جنگلوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد گاؤں اور کھیتی باڑی کے وسیع حصے تھے۔ اس کی بقا کا انحصار اس کی اپنی ہوشیاری، قسمت اور شاید پانی کی رہنمائی پر تھا۔
جھمری کی پیدائش مدھیہ پردیش کے بندھو گڑھ جنگل میں سنہ2016 میں ہوئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سوال یہ تھا کہ وہ گئی کیوں؟ جواب سادہ نہیں تھا بلکہ قدرے پیچیدہ تھا۔ وہ وہاں سے اس لیے گئی کیونکہ بندھو گڑھ کا جنگل پھل پھول رہا تھا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی جنگل پھلتا پھولتا ہے، شکار کی کثرت ہوتی ہے تو مادہ شیرنیاں اپنے علاقے قائم کر لیتی ہیں اور بچوں کی بقا کی شرح بڑھ جاتی ہے اور پھر ایسے میں نئے نئے جوان ہونے والے شیر شیرنیوں کے جگہ کم پڑنے لگتی ہے۔
بالغ نر اپنے علاقے سختی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ نوجوان شیر جب خود مختار ہوتے ہیں تو انہیں اپنی جگہ تلاش کرنی پڑتی ہے۔ دو سے تین سال کی عمر میں وہ ایک انجانی سمت میں بغیر کسی رہنما کے نکل پڑتے ہیں۔
جھمری بھی انہی نوجوان شیرنی میں سے ایک تھی جسے اپنی مملکت چاہیے تھی۔ اس نے چار سو کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔ اس نے دریا پار کیے، پہاڑیوں کو عبور کیا اور ان جنگلات سے گزری جو مکمل طور پر اس کی نقل و حرکت کے لیے محفوظ نہیں تھے۔ اس کے راستے میں سڑکیں تھیں، ریل کی پٹریاں تھیں، کھیت تھے، اور انسانی بستیوں کی سرحدیں تھیں۔ لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔
’سنٹرل انڈین لینڈ سکیپ سٹڈی‘ کی سنہ2020 کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ’بڑے شکاری جانوروں کی بقا کا دارومدار صرف محفوظ علاقوں پر نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود راہداریوں پر بھی ہوتا ہے۔‘ جھمری نے انہی راہداریوں کا استعمال کیا۔
اچنکمار پہنچ کر اس نے اپنا علاقہ بنایا۔ ابتدا آسان نہیں تھی۔ اس کے پہلے بچوں میں سے ایک کو ایک بالغ نر نے مار دیا، جنگل کا اپنا ایک سخت اصول ہوتا ہے۔
مگر جھمری نے ہار نہیں مانی۔ اس نے دوبارہ بچے پیدا کیے۔ پھر تیسری بار بھی۔
آج وہ ایک مستحکم ماں ہے، ایک ایسی شیرنی جس نے نہ صرف خود کو زندہ رکھا بلکہ ایک نئی نسل کو بھی جنم دیا۔
چھتیس گڑھ کے جنگلات، جو کبھی ’ڈیموگرافک سنک‘ کہلاتے تھے یعنی ایسی جگہ جہاں اموات پیدائش سے زیادہ ہوتی ہیں، اب آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ ’انڈین وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ‘ کی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ ’اگر راہداریوں کو برقرار رکھا جائے تو کمزور جنگلات بھی مضبوط آبادیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔‘ اور جھمری اس اعتبار سے ایک تبدیلی کی علامت بن گئی۔
لیکن اس کی کہانی صرف ایک جانور کی بقا کی نہیں بلکہ ایک نظام کی کامیابی کی ہے۔ وہ راستے جن سے وہ گزری، آج بھی خطرے میں ہیں۔ کان کنی کے منصوبے، نئی سڑکیں اور جنگلات کی کٹائی ان راہداریوں کو کمزور کر رہی ہیں۔
جنگل کی سرحدیں انسانوں کے لیے ہوتی ہیں مگر جھمری کے لیے نہیں تھیں۔ اس کے لیے صرف ایک سوال تھا، کیا یہ راستہ محفوظ ہے؟
اگر وہ راستہ ٹوٹ جائے، تو نہ صرف جھمری جیسے جانوروں کا سفر رک جائے گا بلکہ پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوگا۔ الگ تھلگ آبادیوں میں جینیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے اور ایک معمولی بیماری یا موسمی تبدیلی بھی تباہی لا سکتی ہے۔
آج جب جھمری اپنے بچوں کے ساتھ اچنکمار کے جنگل میں گھومتی ہے تو وہ صرف ایک شیرنی نہیں بلکہ ایک زندہ ثبوت ہے کہ اگر فطرت کو راستہ دیا جائے تو وہ خود کو سنبھال لیتی ہے۔