Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانیہ: یہودی کمیونٹی کی ایمبولینسیں جلانے کے الزام میں دو افراد گرفتار

پیر کو چار ایمبولینسز پر حملہ کر کے ان کو جلا دیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
برطانیہ کی پولیس نے کہا ہے کہ یہودی فلاحی تنظیم کی چار ایمبولینسوں پر حملے اور آگ لگانے کے واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ رواں ہفتے کے آغاز میں شمالی لندن کے علاقے میں پیش آیا تھا۔
بدھ کے روز پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ پکڑے گئے افراد کی عمریں 47 اور 45 سال ہیں جن میں سے ایک کو مغربی اور دوسرے کو وسطی لندن کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔
مذکورہ واقعے میں پیر کی صبح ایمبولینسوں پر حملہ کیا گیا اور پھر ان کو آگ لگائی گئی جس کو برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ’سام دشمنی پر مبنی سنگین حملہ‘ قرار دیا تھا۔
اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔
اس سے قبل پولیس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ اس معاملے میں ایران سے متعلق کسی ممکنہ لنک کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ بعدازاں بتایا گیا تھا کہ تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی طرح سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیے جانے کے بعد پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے میں کم سے کم تین افراد ملوث تھے۔
پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شمالی لندن کے علاقے میں متاثرہ کمیونیٹیز کے تحفظ کے لیے اضافی نفری موجود ہے۔
برطانیہ میں بڑھتی سام دشمنی پر کافی تشویش پائی جاتی ہے جبکہ حکام نے ایران کی جانب سے لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے جن میں یہودیوں کے مقامات کی نگرانی اور نشانہ بنانے کے خطرات بھی شامل ہیں، تاہم دوسری جانب ایران نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔

شیئر: