الفقیر کنواں: مدینہ میں ابتدائی اسلامی زراعت کی یادگار
’بئر الفقیر‘ یا سلمان فارسی کا کنواں، مدینہ منورہ میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت میں مسجدِ نبوی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر آج بھی موجود ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قدیم آثار سے متعلق یہ سائٹ، زمانۂ اسلام سے پہلے کی تھی۔ اسے صحابیِ رسول حضرت سلمان فارسی کی غلامی سے آزادی ملنے کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہے۔
سلمان فارسی جن کا تعلق فارس (ایران) سے تھا۔ وہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی کے غلام تھے جس نے آپ کی آزادی کے لیے یہ شرط رکھی کہ کنویں کے اطراف میں (بعض روایات میں 300 درخت) کھجور کے درخت اگائے جائیں۔
یہودی کی شرط سن کر نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ ’فقروا لصاحبکم‘ ( درخت لگانے کے لیے اپنے ساتھی کی مدد کرو) صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے حضرت سلمان فارسی کی آزادی کے لیے زمین ہموار کی اور درخت اگانے کے لیے زمین میں مخصوص سوراخ کیے جن میں کھجور کے پودے لگائے گئے۔
مطلوبہ تعداد میں کھجور کے درخت لگائے جانے کی شرط پورا ہونے پر یہودی نے سلمان فارسی کو آزاد کر دیا۔ اسی مناسبت سے اس کنویں کو ’بئر الفقیر‘ کہا جاتا ہے۔
اپنی مذہبی اہمیت کے علاوہ، حضرت سلمان فارسی کا کنواں تین میٹر چوڑا ہے جس سے پانی حاصل کرنے کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ اس نظام سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دور میں زرعی تقاضوں اور پانی کی ضرورتوں کے بندوبست کے لیے کس طرح کے طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔

حال ہی میں اس مقام کو مکمل طور پر جامع انداز میں بحال کیا گیا ہے تاکہ یہ ایک محفوظ ثقافتی دلچپسی کا مرکز بن جائے جہاں رسائی میں بھی دشواری نہ ہو۔
اس بحالی کے باعث مدینے کے سیاحتی لینڈ سکیپ میں یہ ثقافتی وراثت، آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ ہوجائے گی۔