Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی گرین انیشیٹیو: ایک ملین ہیکٹر بنجر اراضی بحال اور 15 کروڑ درختوں کی شجرکاری

گرین انیشیٹیو کا مقصد مختلف علاقوں میں 10 ارب درخت لگانا اور 4 کروڑ ہیکٹر بنجر اراضی کو بحال کرنا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی گرین انیشیٹیو کے تحت مملکت نے ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں اہم کامیابی حاصل کی ہے، جس کے دوران ایک ملین ہیکٹر بنجر اراضی بحال کی گئی اور 15 کروڑ 90 لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف حاصل کر لیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق گرین انیشیٹیو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں 27 مارچ 2021 کو شروع کیا گیا جس کا مقصد مملکت کے مختلف علاقوں میں 10 ارب درخت لگانا اور 4 کروڑ ہیکٹر بنجر اراضی کو بحال کرنا تھا۔
وزیر ماحولیات، پانی و زراعت اور نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن ڈیویلپمنٹ، عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی کا کہنا تھا کہ سرسبز سعودی عرب اقدام کے حوالے سے یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی ماحولیاتی استحکام سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے اور وژن 2030 کے اہداف کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 18 ہزار ہیکٹر سے شروع ہونے والا یہ سفر 2026 کے آغاز تک ایک ملین ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے جو قومی ماحولیاتی ترقی کی راہ میں ایک اہم مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کامیابی کے حصول میں سرکاری، سماجی اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔
وزیر ماحولیات نے سعودی گرین انیشیٹیو کو تحفظِ جنگلی حیات، ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت کا ماحول متعدد اقسام کے ہجرت کرنے والے اور رہائشی پرندوں کے لیے ایک گزرگاہ اور محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔

دریں اثنا نائب وزیر ماحولیات پانی وزراعت انجینیئر منصور بن ہلال المشیطی نے کہا کہ یہ پیشرفت ماحولیاتی ایجنڈے میں اہم موڑ ہے جبکہ مصنوعی بارش پروگرام سے بارشوں میں اضافہ اور گرد آلود طوفانوں میں 2024 کے مقابلے میں 2025 میں 50 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
نائب وزیر نے مزید کہا کہ بنجر اراضی کی بحالی اور سرسبز رقبے میں اضافے کے پروگرام میں حاصل ہونے والی کامیابی مشترکہ قومی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے کنونشن کی ایگزیکٹیو سیکریٹری، یاسمین فواد نے اس کامیابی کو عالمی سطح پر ایک مثالی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین ماحول میں بھی زمین کی بحالی ممکن ہے اور اس حوالے سے سعودی عرب نے ایک موثر ماڈل پیش کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ملین ہیکٹر اراضی کی بحالی محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ دنیا کے لیے خشک سالی کے خطرات کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہے۔ جو کچھ حاصل کیا گیا، وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حل موجود ہیں اور اجتماعی عمل سے چیلنجز کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

شیئر: