ایران کی بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع سعودی بندرگاہ ینبع پر حملے کی دھمکی
آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے (فائل فوٹو: پلینٹ لیبز)
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی سرزمین پر زمینی حملہ کیا تو وہ سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ پر حملہ کر دے گا۔
عرب نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کو مشرقِ وسطیٰ کے شہریوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی افواج کے قریبی علاقوں سے دور رہیں اور ان ہوٹلوں میں قیام سے گریز کریں جہاں امریکی فوجی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔
امریکی و اسرائیلی افواج پر غیر عسکری شہریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب نے شہریوں سے کہا کہ وہ ’ان مقامات کو فوری طور پر چھوڑ دیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں تاکہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘
آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سعودی مملکت پائپ لائن کے ذریعے مشرق سے مغرب تک تیل پمپ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی اس کے برعکس یہی عمل کیا ہے جس کے تحت ابوظہبی کے مغرب سے مشرقی بندرگاہ فجیرہ تک تیل منتقل کیا جا رہا ہے جسے ایران نے جمعے کو حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔
نائب صدر اسماعیل ثاقب اصفہانی نے کہا کہ ’ایرانی سرزمین پر قدم رکھیں اور تیل کی قیمت کی کم از کم سطح 150 ڈالر ہو جائے گی۔ فجیرہ اور ینبع کی تباہی تو صرف ہماری شروعات ہو گی۔‘
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا اپنی توانائی کی تنصیبات کی تباہی کا سامنا کرنے کے لیے دی گئی مہلت میں دوسری بار توسیع کے بعد سامنے آیا ہے۔
اصل الٹی میٹم میں 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے پہلے پانچ دن اور اب مزید 10 دن بڑھا کر 6 اپریل تک کر دیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی ’معاہدہ کرنا‘ چاہتے ہیں لیکن تہران نے تعمیل کی کوئی علامت ظاہر نہیں کی۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے کو ’دشمن کی بندرگاہوں‘ کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔
دوسری جانب خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے جاری رہے۔ ایران نے ریاض کی طرف چھ میزائل داغے جن میں سے چار خلیج اور غیر آباد علاقوں میں گرے جبکہ دو کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
کویت میں مبارک الکبیر بندرگاہ پر ڈرونز اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس سے نقصان تو ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ قطر اور بحرین میں بھی خطرے کے انتباہی سگنل جاری کیے گئے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران پر حملوں کا دائرہ کار وسیع کرے گا اور اس کے حملوں نے دو ایٹمی تنصیبات (ایک ہیوی واٹر ری ایکٹر اور ایک یورینیم پروسیسنگ پلانٹ) کو نشانہ بنایا ہے۔
