یکم اپریل سنہ 1976 کو کیلیفورنیا کے ایک گیراج سے شروع ہونے والا سفر آج اپنی نصف صدی مکمل کر چکا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی فون بنانے والی کمپنی ’ایپل‘ نے ان 50 برسوں میں نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا کو بدلا بلکہ عوامی ثقافت (پاپ کلچر) پر بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔
ایپل کی اس 50 سالہ تاریخ کے چند ایسے گوشے ہیں جن سے شاید عام صارفین واقف نہیں ہیں۔ آئیے ان پانچ دلچسپ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں:
مزید پڑھیں
-
’سام سنگ ایس 26‘ اور ’آئی فون 17‘ میں سے بہتر موبائل کون سا ہے؟Node ID: 901560
1۔ وہ مشہور لوگو جس میں ’کاٹ‘ کا نشان ہے
ایپل کے لوگو کے بارے میں کئی فرضی کہانیاں مشہور ہیں لیکن حقیقت سادہ ہے۔
لوگو کے ڈیزائنر روب جینوف بتاتے ہیں کہ سٹیو جابز نے انہیں صرف ایک ہدایت دی تھی ’اسے کیوٹ (پیارا) مت بنانا۔‘
روب جینوف نے سیب میں ’بائٹ‘ کا نشان اس لیے لگایا تاکہ وہ دیکھنے میں چیری جیسا نہ لگے اور سائز کا اندازہ ہو سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیزائنر کو بعد میں معلوم ہوا کہ ’بائٹ‘ کمپیوٹر کی اصطلاح (Byte) کا ہم آواز بھی ہے۔

2۔ اشتہار جس نے مصنوعات دکھائے بغیر تاریخ رقم کی
سنہ1984 میں ایپل نے ایک منٹ کا اشتہار جاری کیا جسے مشہور ہدایت کار ریڈلی سکاٹ نے بنایا تھا۔ جارج اورویل کے ناول ’1984‘ سے متاثر اس اشتہار میں ایک نوجوان ایتھلیٹ کو ایک آمرانہ نظام کے ’بگ برادر‘ کی سکرین توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس اشتہار کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کہیں بھی کمپیوٹر نہیں دکھایا گیا بلکہ یہ پیغام دیا گیا کہ ایپل کے کمپیوٹرز صارفین کو ٹیکنالوجی کی غلامی سے نجات دلائیں گے۔
3۔ رنگوں کے ساتھ تجربات
ایپل نے ہمیشہ بورنگ اور روایتی رنگوں کے بجائے شوخ رنگوں کو ترجیح دی۔
سنہ 1998 میں آنے والے آئی میک کے شفاف اور کینڈی جیسے رنگوں نے تہلکہ مچا دیا۔
اس کے بعد آئی پوڈ اور پھر آئی فون 6S کے ’روز گولڈ‘ رنگ نے تو پوری دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کر دیا جسے ’ملینیل پنک‘ کہا جانے لگا۔

4۔ گھڑی پر ہمیشہ ’09:41‘ کیوں بجتے ہیں؟
اگر آپ ایپل کی ویب سائٹ یا کسی اشتہار پر آئی فون کی تصویر دیکھیں تو اس پر ہمیشہ 9 بج کر 41 منٹ کا وقت دکھائی دے گا۔ اس کے پیچھے سٹیو جابز کی منصوبہ بندی تھی۔
کمپنی کے سابق عہدیدار سکاٹ فارسٹل کے مطابق ایپل کی تقاریب اس طرح ترتیب دی جاتی ہیں کہ نئی پروڈکٹ کی رونمائی قریباً 40 ویں منٹ میں ہو۔
سٹیو جابز چاہتے تھے کہ جب سکرین پر آئی فون نظر آئے تو اس پر وہی وقت ہو جو سامعین کی گھڑیوں پر ہو رہا ہو۔
ایک منٹ کا مارجن احتیاطاً رکھا گیا تھا تاکہ اگر تقریر تھوڑی لمبی ہو جائے تو وقت ہم آہنگ رہے۔

5۔ ایپل کا ’تیسرا بانی‘ جو ارب پتی نہ بن سکا
ہم سب سٹیو جابز اور سٹیو ووزنیاک کو ایپل کے بانیوں کے طور پر جانتے ہیں لیکن یکم اپریل 1976 کو معاہدے پر دستخط کرنے والا ایک تیسرا شخص بھی تھا رونالڈ وین۔
رونالڈ وین نے کمپنی شروع ہونے کے محض 11 دن بعد اپنے حصے کے 10 فیصد شیئرز صرف 800 ڈالر میں بیچ دیے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر کمپنی ناکام ہوئی تو ان کی جمع پونجی ڈوب جائے گی۔
اگر وہ آج ان شیئرز کے مالک ہوتے تو ان کی مالیت 370 ارب ڈالر سے زیادہ ہوتی۔
![]()











