ناسا کے خلا باز چاند پر ’پراڈا‘ پہنیں گے، آرٹیمس فور مشن کے لیے نیا خلائی لباس متعارف
ناسا کے خلا باز چاند پر ’پراڈا‘ پہنیں گے، آرٹیمس فور مشن کے لیے نیا خلائی لباس متعارف
بدھ 10 جون 2026 13:59
ناسا کے آرٹیمس فور مشن کے تحت تقریباً 50 برس بعد انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔ (فوٹو: ایکسیوم سپیس)
ناسا کے آرٹیمس فور مشن کے تحت تقریباً 50 برس بعد انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری جاری ہے، اور اس مشن کا ایک دلچسپ پہلو خلا بازوں کے لیے تیار کیا گیا نیا خلائی لباس ہے جس کی تیاری میں معروف فیشن برانڈ پراڈا بھی شامل ہے۔
امریکی ویب سائٹ سی نیٹ کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ایکسیوم سپیس اور اطالوی فیشن ہاؤس پراڈا نے اتوار کو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں پراڈا کے سٹور پر ایک تقریب کے دوران ایک نئے ٹھنڈک اور ہوا رسانی والے لباس کی نقاب کشائی کی۔
یہ لباس آرٹیمس فور مشن میں استعمال ہونے والے ’ایکسیوم ایکسٹرا وہیکولر موبلٹی یونٹ‘ خلائی لباس کی اندرونی تہہ کے طور پر کام کرے گا۔ یہ جمپ سوٹ نما لباس خلا بازوں کے جسم کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود ٹھنڈک اور ہوا رسانی کا نظام مؤثر انداز میں کام کر سکے۔
اگرچہ اس لباس کا بنیادی مقصد خلا بازوں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنا ہے، تاہم پراڈا اور ایکسیوم سپیس نے اس کے ڈیزائن پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ جسم سے چُست انداز میں فٹ ہونے والا یہ لباس اور اس پر نصب نالیوں کا نظام اسے ایک منفرد اور جدید شکل دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پراڈا نے لباس کی بنائی، تیاری اور ڈیزائن پر کام کیا جبکہ ایکسیوم سپیس نے اس کے ٹھنڈک اور ہوا رسانی کے نظام تیار کیے۔
ایکسیوم سپیس کا کہنا ہے کہ انسانی جسم مسلسل حرارت پیدا کرتا ہے، اس لیے یہ لباس طویل خلائی چہل قدمی کے دوران جسم کی اضافی حرارت کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے تاکہ خلا باز زیادہ گرم نہ ہوں۔
رواں سال آرٹیمس ٹو مشن کی کامیابی کے بعد ناسا آرٹیمس تھری 2027 اور فور کو 2028 کے آغاز میں روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔(فوٹو:ایکسیوم سپیس)
ایکسیوم سپیس کے سینیئر نائب صدر رسل رالسٹن کے مطابق ’خلا باز جب بھی اپنی گاڑی سے باہر ہوتے ہیں تو یہ نظام مسلسل ان کی حفاظت کے لیے کام کرتا ہے۔‘
’یہ ان کے جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھتا ہے، سانس لینے میں مدد دیتا ہے اور اس وقت بھی مؤثر رہتا ہے جب خلا باز جسمانی طور پر انتہائی مشکل کام انجام دے رہے ہوتے ہیں۔‘
پراڈا نے تقریب کے دوران بتایا کہ یہ لباس صرف ناسا کے آرٹیمس فور مشن کے لیے نہیں بلکہ تجارتی خلائی کمپنیوں، جن میں بلیو اوریجن اور سپیس ایکس شامل ہیں، کو بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اسے خلائی سیاحت سمیت دیگر تجارتی خلائی منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رواں سال آرٹیمس ٹو مشن کی کامیابی کے بعد ناسا آرٹیمس تھری مشن کو 2027 اور آرٹیمس فور مشن کو 2028 کے آغاز میں روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آرٹیمس فور کے ذریعے 1972 کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو دوبارہ چاند کی سطح پر بھیجنے کا منصوبہ ہے۔
خلائی لباس کیسے کام کرتا ہے؟
اس لباس کے دو بنیادی مقاصد خلا بازوں کو ٹھنڈا رکھنا اور خلا کے ماحول میں سانس لینے کے لیے موزوں حالات فراہم کرنا ہیں۔
اس مقصد کے لیے لباس میں باریک نالیوں کا ایک جال نصب کیا گیا ہے جو جسم کے مختلف حصوں تک ٹھنڈا پانی اور ہوا پہنچاتا ہے۔
ایکسیوم سپیس کے مطابق ٹھنڈا پانی جسم کے بڑے عضلات کے قریب موجود نالیوں میں گردش کرتا ہے، جسم کی اضافی حرارت جذب کرتا ہے اور اسے خلائی لباس کے نظامِ حیات تک منتقل کرتا ہے، جہاں سے یہ حرارت خلا میں خارج کر دی جاتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ پرانے ٹھنڈک کے نظاموں کے برعکس اس لباس میں مکمل بیک اپ ٹھنڈک سرکٹ بھی موجود ہے۔ (فوٹو:ایکسیوم سپیس)
کمپنی کا کہنا ہے کہ پرانے ٹھنڈک کے نظاموں کے برعکس اس لباس میں مکمل بیک اپ ٹھنڈک سرکٹ بھی موجود ہے تاکہ اگر مرکزی نظام میں خرابی پیدا ہو جائے تو متبادل نظام کام جاری رکھ سکے۔
لباس میں ہوا رسانی کا نظام بھی نصب ہے جو خلا باز کے چہرے کے سامنے تازہ آکسیجن فراہم کرتا ہے اور خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بناتا ہے۔
اگرچہ یہ اندرونی لباس خلا بازوں کو آرام دہ ماحول فراہم کرتا ہے، تاہم بیرونی ایکسیوم ایکسٹرا وہیکولر موبلٹی یونٹ خلائی لباس انہیں چاند کے جنوبی قطب کے انتہائی سرد درجہ حرارت سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لباس میں نظامِ حیات، الیکٹرانک آلات اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دوبارہ آکسیجن میں تبدیل کرنے والا نظام بھی موجود ہے۔
ایکسیوم سپیس کے مطابق یہ لباس اور اس کی اندرونی تہہ خلا بازوں کو مسلسل آٹھ گھنٹے تک خلائی چہل قدمی کے دوران محفوظ اور ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ چاند کے مستقل سائے میں رہنے والے انتہائی سرد علاقوں میں بھی دو گھنٹے تک مؤثر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔