Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں 20 افراد زخمی، جعفر ایکسپریس کی سروس معطل

بلوچستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ دو روز کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اتوار کی رات کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر واقع ایف سی ونگ ہیڈ کوارٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی اور یکے بعد دیگرے کئی دستی بم پھینکے۔
پولیس کے مطابق حملے میں تین ایف سی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ 
 ایس ڈی پی او شالکوٹ خضر حیات کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کی زد میں آ کر ایک راہ گیر ہلاک اور دیگر 12 راہ گیر زخمی ہوئے جن میں اکثریت کم عمر کرکٹ کھلاڑیوں کی تھی۔ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
اس واقعے سے قبل اتوار کی شام کو موٹرسائیکل سوار افراد نے کوئٹہ کے نواحی علاقے اغبرگ میں ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنایا جس میں ایک پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوا۔
حملہ آوروں نے جائے وقوعہ کے قریب ایک نجی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔
اسی دوران ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے پل کے نیچے دھماکے سے پل کو جزوی نقصان پہنچا۔ ریلوے کنٹرول روم کے مطابق دھماکے کے بعد جعفر ایکسپریس کی پشاور جانے والی سروس منسوخ کردی گئی جبکہ پشاور سے آنے والی ٹرین کو جیکب آباد میں روک دیا گیا۔
ادھر نوشکی میں احمدوال کے قریب بھی ریلوے ٹریک کو دو مختلف مقامات پر دھماکوں سے نقصان پہنچایا گیا۔ 
دوسری جانب پیر کی علی الصبح جھل مگسی کے علاقے کوٹڑہ میں پولیس تھانے پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ جھل مگسی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق فائرنگ کی زد میں آکر ایک 11سالہ بچہ فیاض حسین ہلاک جبکہ ایس ایچ او سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔

بلوچستان میں شدت پسندی کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کئی بار موثر کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

معاون برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کی دو کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں ایف سی اور پولیس نے بھرپور جواب دیا جس کے بعد فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے فرار ہوتے ہوئے معصوم شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کے حملوں میں 5 شہری معمولی زخمی ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔
بابر یوسفزئی نے مزید کہا کہ ’تمام سکیورٹی فورسز الرٹ ہیں، پورے بلوچستان میں مکمل امن ہے اور صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کو ہر قیمت پر محفوظ بنائیں گی۔‘

شیئر: