Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تیسری مرتبہ وزیر داخلہ بلوچستان بننے والے میر ضیاء اللہ لانگو کون ہیں؟

بلوچستان میں وزارت داخلہ کا منصب اکثر حکومت کے لیے مشکل سمجھا جاتا ہے (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)
میر ضیاء اللہ لانگو نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے اور وہ تیسری مرتبہ اس اہم منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ اس طرح بلوچستان کو لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد وزیر داخلہ مل گیا ہے۔
44 سالہ ضیاء اللہ لانگو کا تعلق ضلع قلات کی تحصیل منگچر سے ہے اور وہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی )کے مرکزی ترجمان ہیں جبکہ اس سے قبل وہ پارٹی کے مرکزی نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔
ان کا تعلق ایک ایسے سیاسی خاندان سے ہے جس کی جڑیں بلوچ قوم پرست سیاست میں گہری رہی ہیں تاہم اب اپنے والد کے برعکس وہ قوم پرست سیاست کا حصہ نہیں رہے۔ ان کے والد میر عبدالخالق لانگو نے زمانہ طالب علمی سے بلوچ قوم پرست طلبہ تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی اور نیشنل عوامی پارٹی، بلوچ نیشنل یوتھ موومنٹ اور بلوچ نیشنل موومنٹ جیسی قوم پرست جماعتوں سے وابستہ رہے۔ ان کے والد 2001 میں مستونگ میں قبائلی تنازع کی بنیاد پر قتل کیے گئے۔
میر ضیاء اللہ لانگو سیاست میں عملی طور پر اس وقت آئے جب ان کے بڑے بھائی میر خالد ہمایوں لانگو جو سنہ 2013 سے سنہ 2018 تک بلوچستان اسمبلی کے رکن اور قریباً تین سال مشیر خزانہ رہے، ایک بڑے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہو کر سیاست سے باہر ہو گئے۔
یہ کیس سنہ 2016 میں سامنے آیا جب اس وقت کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، سونا، غیر ملکی کرنسی اور جائیدادوں کے کاغذات برآمد ہوئے۔ تحقیقات میں الزام سامنے آیا کہ مشتاق رئیسانی اور خالد لانگو نے مبینہ طور پر ملی بھگت سے اربوں روپے کی خردبرد کی۔جس پر سنہ 2016 میں انہیں گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعدانہوں نے مشیر کے عہدے سے استعفا دے دیا۔
جنوری 2018 میں خالد لانگو نے اقتدار میں شامل اپنی پارٹی نیشنل پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے ن لیگ کے باغی ارکان، ق لیگ اور اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کی حمایت بھی کی۔ اس کے نتیجے میں ثناء اللہ زہری کو استعفا دینا پڑا اور ان کی جماعت نیشنل پارٹی اقتدار سے بے دخل ہو گئی۔
اس کے بعد عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بنے تو خالد لانگو کو حمایت کے صلے میں ان کے چھوٹے بھائی ضیاء اللہ لانگو کو وزیراعلیٰ کا مشیر بنایا گیا۔
احتساب عدالت نے مشتاق رئیسانی کو خالد لانگو کو 26 ماہ قید کی سزا سنائی اور 10 سال کے لیے عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا اس کے بعد خالد لانگو عملی سیاست سے قریباً باہر ہو گئے اور قلات کی سیاست میں لانگو خاندان کی نمائندگی کا خلا پیدا ہوا۔
اسی پس منظر میں میر ضیاء اللہ لانگو سیاست میں نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل تحریک عدم اعتماد لانے والےارکان نے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی جو اسٹیبلشمنٹ کے قریب تھی۔ اس میں موجودہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سمیت ن لیگ میں نواز شریف سے بغاوت کرنےوالے ارکان کی اکثریت شامل تھی۔
ضیاء اللہ لانگو بھی نئی سیاسی جماعت کا حصہ بنے اور بھائی کی جگہ سنہ 2018 کے انتخابات میں قلات کے آبائی حلقے سے انتخاب میں حصہ لیا اور بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جام کمال کی کابینہ میں ان کے پاس محکمہ جنگلات اور بعدازاں محکمہ داخلہ کا قلمدان رہا ۔  
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل وہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری ملازم بھی رہے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت چھوڑ کر انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تاہم ان کی اس حیثیت کو عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا۔
وزیر داخلہ کے طور پر ان کا دور ایسے وقت میں گزرا جب بلوچستان سکیورٹی چیلنجز، شورش اور سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ اس دوران امن و امان، لاپتہ افراد اور شدت پسندی جیسے مسائل پر انہوں نے سخت مگر ریاست کےموافق موقف اپنایا تاہم اس پر انہیں بلوچ قوم پرست حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی رہا۔

ضیاء اللہ لانگو کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد صوبے میں قریباً ڈیڑھ سال سے خالی رہنے والا اہم منصب دوبارہ فعال ہوا (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)

سنہ 2024 کے انتخابات میں بھی وہ دوبارہ بلوچستان اسمبلی کے رکن اور وزیر داخلہ بنے مگر ان کی کامیابی کو مخالف امیدوار جے یو آئی کے سعید لانگو نے چیلنج کر دیا۔
عدالت نے سات پولنگ اسٹیشنوں پر بے ضابطگیوں کی بنیاد پر ان کی کامیابی معطل کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا حکم دیا اس طرح اگست 2024 میں انہیں اسمبلی رکنیت اور وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
مارچ 2026 میں انہی پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ میں وہ دوبارہ کامیاب ہوئے. ان کا دوبارہ انتخاب بھی پولنگ کے دوران بیلٹ پیپرز کے غائب ہونے اور دھاندلی جیسے الزامات کی وجہ سے تنازع کا شکار ہوا ۔ مخالف امیدوار نے دھاندلی کی بنیاد پر ان کی کامیابی کو ایک بار پھر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم ضیاء لانگو نے دھاندلی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
بلوچستان میں وزارت داخلہ کا منصب اکثر حکومت کے لیے مشکل سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر ارکان اسے سنبھالنے سے گریز کرتے ہیں۔ ضیاء اللہ لانگو کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد صوبے میں قریباً ڈیڑھ سال سے خالی رہنے والا اہم منصب دوبارہ فعال ہوا۔

ضیاء اللہ لانگو کو وزارت کا حلف لینے کے بعد ایک اور تنازع کا شکار ہوئے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

چند ہفتے قبل یہ وزارت پیپلز پارٹی کے علی مدد جتک کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا انہوں نے وزارت کا حلف بھی لے لیا تاہم قلمدان کا نوٹیفکیشن آخری وقت میں جاری ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ ان کا ایک پرانا ویڈیو وائرل ہوا جس میں انہوں نے محکمہ داخلہ انہیں ملنے کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا تھا ۔
ضیاء اللہ لانگو کو وزارت کا حلف لینے کے بعد ایک اور تنازع کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کے حامی اور ایک پشتون قبائلی رہنما کے درمیان سوشل میڈیا پر نازیبا بیانات وائرل ہوئے۔ حلف سے قبل ہی یہ پشتون رہنما گرفتار ہوا اور بعد میں معافی کا ویڈیو بیان جاری کیا۔ تاہم بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ اس رہنما پر تشدد کیا گیا اور زبردستی بیان دلا کر منصب کا غلط استعمال کیا گیا۔

شیئر: