Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں ’سکیورٹی خدشات‘ کے تحت موبائل فون سروس اور ٹرینوں کی آمد و رفت معطل

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سروسز کی بحالی کا فیصلہ کیا جائے گا (فائل فوٹوـ پکسابے)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے 23 مارچ (یومِ پاکستان) کے موقعے پر ’سکیورٹی کے پیشِ نظر‘ صوبے بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے جبکہ دارالحکومت کوئٹہ اور ژوب ڈویژن کے مختلف اضلاع میں موبائل فون نیٹ ورک بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے وزارتِ داخلہ بابر یوسفزئی نے سروسز کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ’ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے‘ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح عوام کے جان و مال کی حفاظت ہے، اس عارضی معطلی سے ہونے والی زحمت کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔‘
دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ سے اندرونِ ملک آنے اور جانے والی ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد کے مقام پر روک لیا گیا ہے جبکہ دیگر ٹرینوں کی روانگی بھی سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں اہم قومی ایام کے موقع پر ماضی میں بھی سکیورٹی کے پیشِ نظر مواصلاتی رابطوں اور نقل و حمل پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سروسز کی بحالی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

شیئر: